’خفیہ اداروں سے تحریری جواب طلب‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) ملٹری انٹیلیجنس ( ایم آئی) اور انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے سربراہوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعے کے روز لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

لاپتہ ہونے والے افراد میں ایک شخص عتیق الرحمان کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود لاپتہ ہونے والے افراد کو بازیاب نہیں کروایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت میں اس ضمن میں ویڈیو فلم بھی پیش کی گئی ہے جس میں دیکھایا گیا ہے کہ کچھ افراد جیل سے رہا ہونے والے ان افراد کو زبردستی گاڑیوں میں ڈال رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق سے کہا کہ وہ وزارتِ داخلہ سے پوچھ کر بتائیں کہ یہ افراد کہاں پر ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انہوں نے خفیہ اداروں کے حکام سے بھی رابطہ کیا ہے اور ان افراد کے بارے میں پوچھا ہے لیکن انہوں نے بتایا ہے کہ یہ افراد خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں نہیں ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ نے جو رپورٹ دی ہے اُس کے مطابق ان افراد کو اڈیالہ جیل کے باہر سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اُٹھایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اُنہیں معلوم ہے کہ یہ افراد کہاں ہیں اور عدالت کو انتہائی اقدام اُٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اداروں کے درمیان تصادم نہیں چاہتی اور اگر ان لاپتہ ہونے والے افراد کو بازیاب نہ کروایا گیا تو بڑے بڑوں کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار عدالت کو ان کیمرہ بریفنگ دینا چاہتے ہیں جس کو چیف جسٹس نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بھی کہنا ہے کہ عدالت میں آکر کہا جائے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ خود ان اہلکاروں سے بات کرکے عدالت کو آگاہ کریں۔

واضح رہے کہ گُزشتہ سماعت کے دوران پنجاب کے چیف سیکرٹری نے ان افراد سے متعلق ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی جس کے بارے میں عدالت کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اٹارنی جنرل کے بیان سے متصادم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ افراد خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں نہیں ہیں۔ عدالت نے ان افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت پچیس نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد کو دہشت گردی کے چار مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے طیارے پر حملے، حمزہ کیمپ کے باہر خود کش حملے کے علاوہ کامرہ کے قریب پاکستان ائرفورس کی گاڑی پر ہونے والے خود کش حملے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ ان افراد کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر ان مقدمات میں سے بری کیا تھا۔

اسی بارے میں