سوچی ہماری قیدی ہے!

آنگ سان سو چی

آنگ سان سوچی پر لکھتے ہوئے دل ڈرتا ہے۔ جانے پھر کب قید ہوجائے اور پھر میڈیا سوچی کی اگلی رہائی تک یہ کہانی لپیٹ کر دراز میں رکھ دے۔ ویسے بھی برما ہمیشہ سے ایک پٹی ہوئی سٹوری ہے اور تاریخ و سیاست کے ریڈار پر اسکی حیثیت کبھی بھی ایک فلیش سے زیادہ نہیں رہی۔

برِصغیر کے زیادہ تر لوگ برما کو اگر جانتے بھی ہیں تو چار حوالوں سے۔

اول۔ رنگون میں آخری مغل بہادر شاہ ظفر دفن ہے۔

دوم۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپانی افواج برما تک پہنچ گئی تھیں اور ہندوستان کو جاپانیوں سے بچانے کی لڑائی یہاں لڑی گئی۔

سوم۔ ساٹھ کی دھائی میں شمشاد بیگم نے پتنگا فلم کے لئے گانا گایا تھا۔’میرے پیا گئے رنگون وہاں سے کیا ہے ٹیلی فون تمہاری یاد ستاتی ہے۔۔۔۔‘

چہارم۔ سب سے اچھی ساگوان کی لکڑی ( برما ٹیک) برما میں ہوتی ہے۔

اگر پوچھا جائے کہ جنرل آنگ سان کون تھے اور انیس سو اڑتالیس میں کیوں قتل ہوگئے۔ جنرل نے ون کون کس بلا کا نام ہے۔ روہنگیا لوگ کون ہیں۔ شان علیحدگی پسند تحریک کا آگا پیچھا کیا ہے۔ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کونسی چڑیا کا نام ہے۔ تو ننانوے فیصد پڑھے لکھے لوگ الٹا آپ سے پوچھ لیں گے کہ بھائی صاحب طبیعت تو ٹھیک ہے۔ رات کو نیند تو اچھی طرح سے آئی تھی۔ یہ آپ کیسے عجیب و غریب نام لے رہے ہیں۔

اس معلوماتی پس منظر میں اگر ایک عام سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا دھان پان سی آنگ سانگ سوچی کے طفیل برما کو جانتا ہے تو یہ بذاتِ خود معجزہ ہے۔ لیکن میں ان لوگوں کے لیے بھی سر پیٹنا چاہتا ہوں جو جانے انجانے میں تشبیہات بانٹنے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ جیسے یہی کہ آنگ سانگ سوچی ایشیا کی نیلسن منڈیلا ہیں؟ ہلو۔۔ ایکسکیوز میں۔۔کیا نیلسن منڈیلا افریقہ کی آنگ سانگ سوچی ہیں؟ کیا گوتم بدھ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے حضرت عیسی علیہ سلام ہیں؟ تو کیا حضرت عیسیٰ فلسطین کے زرتشت ہیں۔اور کیا مارٹن لوتھر کنگ امریکہ کے مہاتما گاندھی ہیں؟؟؟ یہ کسی شخصیت کی بڑائی بیان کی جارہی ہے یا اپنی جہالت کا اشتہار دیا جارہا ہے؟

سوچی کل رہا ہوئی تھی۔ پھر نظربند ہوگئی۔ آج رہا ہوگئی ہے ہوسکتا ہے کل پھر قیدی بن جائے۔ مگر کتنی عجیب بات ہے کہ جب وہ قید میں ہوتی ہے تو کوئی اسے نہیں پوچھتا ہمسائے تک کنی کترا جاتے ہیں۔ چین برما کے اڑتالیس سالہ آمرانہ تسلسل کی وارث جنتا سے گٹھ جوڑ کرکے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا رہتا ہے۔ آسیان کی علاقائی تنظیم یہ بہانہ بناتی ہے کہ برما کی رکنیت کی معطلی سے وہاں کے اندرونی حالات میں اور سختی آجائے گی۔گاندھی کا بھارت فوجی آمر جنرل تھان شا کے لئے سرخ قالین بچھا دیتا ہے۔ کیونکہ اس قالین کے نیچے ہی گیس اور تیل کے ذخائر ہیں۔ تھائی لینڈ سوچتا ہے کہ اگر سرحدی ناکہ بندی کردی تو قیمتی جنگلاتی لکڑی کہاں سے منگواؤں گا۔اور بنگلہ دیش۔۔بنگلہ دیش تو خود بے چارا کسی گنتی شمار میں نہیں۔ رہی بات یورپی یونین اور امریکہ کی، تو برما کے اندرونی سیاسی جبر پر اظہارِ تشویش برسلز اور واشنگٹن سے جاری معمول کے بیانات اور انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹوں کی پانچ لائنوں میں سما جاتا ہے۔

یوں لگتا ہے کہ عالمی برادری کے نزدیک سوچی اور اسکی ثابت قدمی کا بس ایک ہی مصرف ہے کہ جب جب بھی وہ رہا ہوتو اوبامہ اسے ’میری ہیرو‘ کہہ دیں۔ بانکی مون خوش آئند خبر کہہ کر خوش ہوجائیں۔ یورپی یونین اسے اہم پیش رفت سمجھ لے اور نئی دلی ایک مثبت قدم گردان دے۔اور جب بھی سوچی نظر بند ہوں۔ یہی لوگ ایک آہ بھرتے ہوئے ’بڑا افسوس ہوا‘ کہہ کر آگے بڑھ جائیں۔

تو کیا یہ کہنا غلط ہے کہ آنگ سان سوچی برما کی کھوسٹ فوجی جنتا کی نہیں، عالمی برادری کی منافقانہ بے دلی کی قیدی ہیں ؟؟؟

اسی بارے میں