آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 نومبر 2010 ,‭ 14:16 GMT 19:16 PST

ہم صرف باتیں کرنے نہیں آئے: رچرڈ ہالبروک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ امریکی حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں مالی امداد براہ راست پاکستانی عوام تک پہنچانے کا بندوبست کیا جائے گا۔

پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے ہونے والے پاکستان ڈیویلپمنٹ فورم کے اجلاس میں شرکت کے اسلام آباد پہنچنے کے فوراً بعد صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ پاکستان کی مدد کے سلسلے میں وہ صرف گفتگو نہیں عملی اقدامات کرنے کے لیے آئے ہیں۔

’ہم صرف مزید باتیں نہیں کرنا چاہتے۔ ہم یہاں پر عملی اقدامات کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اور میں پاکستانی عوام تک فنڈز براہ راست پہنچانے کے لیے کل ایسے اقدامات کا اعلان کروں گا جس سے امریکہ کی مکمل کمٹمنٹ کا اظہار ہوگا۔‘

تاہم امریکی اعلیٰ سفارتکار نے کہا کہ پاکستانی عوام کو بھی سیلاب سے متاثر اپنے ہم وطنوں کے لیے قربانی دینا ہو گی۔ پاکستان میں فلڈ ٹیکس کے نفاذ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی شرکت کے بغیر تعمیر نو کے لیے غیر ملکوں سے مدد کی توقع درست نہیں ہے۔

سیکرٹری ہیلری کلنٹن نے ذاتی دلچسپی لے کر ان تعلقات کو بہتر کیا ہے، امریکہ میں حکام اعتماد کے فقدان کی بات کرتے تھے، اب ایسی باتیں ہونا بند ہو چکی ہیں، ہمارا بہت قریبی ذاتی تعلق پیدا ہوا ہے صدر زرداری، وزیراعظم گیلانی اور حکومت کے دیگر ارکان کے ساتھ۔ اس کے ساتھ ساتھ جی ایچ کیو کے ساتھ براہ راست اور مؤثر گفتگو جاری ہے۔

'میں اس ٹیکس کے بارے میں تفصیلات میں جائے بغیر محض اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہمیں امید ہے کہ پاکستان اپنے ٹیکس سٹرکچر میں اصلاحات لائے گا۔ پاکستان دنیا میں سب سے کم ٹیکس جمع کرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔ اب جبکہ پاکستانی امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا تو ایسے میں ہمارے لیے پاکستان کو اپنے ٹیکس گزاروں کے اربوں ڈالر دینے کا جواز ڈھونڈنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔'

رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ وہ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کہ حالیہ دنوں میں پاکستانی قیادت اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات گزشتہ امریکی حکومت کے دور میں بہت خراب تھے اب ان میں بہت بہتری آچکی ہے۔

’سیکریٹری ہیلری کلنٹن نے ذاتی دلچسپی لے کر ان تعلقات کو بہتر کیا ہے، امریکہ میں حکام اعتماد کے فقدان کی بات کرتے تھے، اب ایسی باتیں ہونا بند ہو چکی ہیں، ہمارا بہت قریبی ذاتی تعلق پیدا ہوا ہے صدر زرداری، وزیراعظم گیلانی اور حکومت کے دیگر ارکان کے ساتھ۔ اس کے ساتھ ساتھ جی ایچ کیو کے ساتھ براہ راست اور مؤثر گفتگو جاری ہے۔ مزید یہ کہ اگرچہ پاکستان میں امریکی زیادہ مقبول نہیں ہیں اس کے باوجود یہاں امریکیوں کی پسندیدگی میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ درست سمت میں کچھ نہ کچھ تو ہو رہا ہے۔‘

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بارے میں ایک سوال پر خصوصی امریکی ایلچی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس علاقے میں پاکستانی فوج کارروائی کرے لیکن ایسا کب ہوگا، اس فیصلے کا حق صرف پاکستانی فوج کو حاصل ہے۔

پاکستان میں سیلاب متاثرہ بچی کی فائل فوٹو

رچرڈ ہالبرک نے کہا کہ امریکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے

’یہ جی ایچ کیوں پر منحصر ہے کہ وہ کب شمال وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع کرتا ہے۔ فی الحال وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اس کارروائی کے لیے مطلوبہ وسائل نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک جائز بات ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ کارروائی ہو گی لیکن ایسا کب اور کیسے ہو گا اس کا اختیار میں جی ایچ کیو کو حاصل ہے۔ یہ پاکستان ہے اور امریکہ پاکستانی فوج پر حکم نہیں چلا سکتی۔‘

افغانستان سے امریکہ کے فوجی انخلا کی پالیسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں امریکی ایلچی نے کہا کہ امریکی متحرب فوجیوں کا افغانستان سے مرحلہ وار انخلا سنہ دو ہزار چودہ کے آخر تک مکمل ہو جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل اگلے سال جولائی میں شروع ہو گا۔

’پالیسی یہ ہے کہ اگلے چار برس میں افغانستان میں سیکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوج اور پولیس کے سپرد کر دی جائے۔لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان کو تنہا چھوڑ کر نہیں جائیں گے ۔ ہم انیس سو نواسی کو دہرانا نہیں چاہتے ۔ یہ افغانستان سے نکلنے کی حمکمت عملی نہیں بلکہ حکمت عملی میں تبدیلی ہے۔‘

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔