چرچ کی چار دیواری گرانے کی تحقیقات

Image caption چرچ کے اندرونی حصہ کو بھی نقصان پہنچا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور کامران مائیکل کا کہنا ہے کہ لاہور کے نواحی علاقے میں ایک گرجا گھر کی چار دیواری گرانے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر کے مطابق یہ واقعہ پیر کی دوپہر رائے ونڈ کے علاقے میں سردار ٹاؤن پیش آیا تھا اور وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

صوبائی وزیر کے بقول وزیراعلیْ نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات چوبیس گھنٹوں میں مکمل کی جائیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر کامران مائیکل نے بتایا کہ چرچ کی چار دیواری گرانے کے واقعہ کا مقدمہ چرچ کے پاسٹر ظفر کی درخواست درج کیا گیا ہے ۔

چرچ کی انتظامیہ نے یہ الزام لگایا ہے کہ علاقے کا ایک بااثر شخص ننھا بھٹی چند لوگوں کے ساتھ آیا اور اس نے بلڈوز سے چرچ کی چار دیواری کو گرا دیا جس سے چرچ کے اندرونی حصہ کو بھی نقصان پہنچا۔

چرچ کے پاسٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی کے دوران بائبل کی بھی بے حرمتی کی گئی اور جب ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے وہاں موجود خواتین سمیت دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

اس واقعہ پر علاقے کے لوگوں نے احتجاج کیا اور سڑک کو بلاک کردیا اسی دوران صوبائی وزیر اقلیتی کامران مائیکل نے بھی موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مظاہرین نے صوبائی وزیر کی یقین دہانی پر اپنا احتجاج ختم کردیا جس کے بعد ٹریفک بحال کر دی گئی۔

اسی بارے میں