تحریکِ طالبان کا مبینہ کمانڈر گرفتار

فائل فوٹو، اسلام آباد پولیس
Image caption پولیس اہلکاروں نے جب کتابیں کھول کر دیکھیں تو اُن کے صرف چند صفحات تھے اور باقی بارود بھرا ہواتھا: ڈی آئی جی

وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے حکام نے نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خیبر ایجنسی کے ایک مبینہ کمانڈر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق مبینہ کمانڈر اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا تھا۔

اسلام آباد میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) آپریشن بنیامین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والا شخص محمد رفیق اسلام آباد پولیس کے تفتشیی ادارے یعنی سی آئی اے کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا تھا کہ ملزم قانون سے متعلق کچھ بڑی بڑی کتابیں جن میں میجر ایکٹ اور مائنر لاء کی کتابیں شامل ہیں، سی آئی اے میں تعینات ایک پولیس افسر کو دینا چاہتا تھا۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ جب پولیس اہلکاروں نے جب کتابیں کھول کر دیکھیں تو اُن کے صرف چند صفحات تھے اور باقی بارود بھرا ہواتھا۔

پولیس نے مذکورہ شخص کو گرفتار کرلیا اور اُسے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جہاں پر انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکار اُس سے تفتیش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں