فلم انمول گھڑی نمائش کے لیے تیار

فلم انمول
Image caption انیس سو چھالیس میں بنائی گئی اس فلم کی ہیروئین میڈم نورجہاں جب کہ موسیقار نوشاد تھے۔

پاکستان سینسر بورڈ نے کئی دہائی پرانی فلم انمول گھڑی کو منظور کردیا ہے جس کے بعد یہ فلم اب نمائش کے لیے پیش کی جا سکے گی۔

پچھلے دنوں سندھ ہائی کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ فلم رلیز ہونے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔ انیس سو چھالیس میں بنائی گئی اس فلم کی ہیروئین میڈم نورجہاں جب کہ موسیقار نوشاد تھے۔

آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے، آ جا میری برباد محبت کے سہارے اور جواں ہے محبت حسین ہے زمانہ سمیت کئی نامور گیتوں پر مبنی اس فلم کا شمار اپنے وقت کی کامیاب ترین فلموں میں کیا جاتا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر محبوب خان تھے جب کہ اداکاروں میں نورجہان، سریندر، ثریا، ظہور راجہ، لیلٰ مشرا، انور بیگم اور دیگر شامل تھے۔یہ فلم انیس سوچھالیس میں برصغیر کی تقسیم قریب کے دنوں میں رلیز ہوئی تھی۔

انیس سو پینسٹھ کی پاکستان بھارت جنگ کے بعد پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد ہوگئی جس کا شکار فلم انمول گھڑی بھی ہوئی جس کی ہیروئین اور فلسماز دونوں پاکستانی تھے۔

محبوب پکچرز نے پچھلے دنوں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس فلم کو انیس سو چھالیس میں بمبئی سینسر بورڈ، انیس سو اڑتالیس میں پنجاب سینسر بورڈ اور انیس سو انچاس میں کراچی سینسر بورڈ نے پاس کیا تھا۔

ایڈووکیٹ عزیز اے منشی نے بتایا کہ انیس سو باسٹھ میں پاکستان ڈفینس رولز کے تحت اس فلم پر پابندی عائد کی گئی بعد میں ہائی کورٹ نے دیگر انڈین فلموں کے ساتھ اس فلم کی بھی نمائش کی اجازت دے دی۔ ان کے مطابق انیس سو پینسٹھ میں دوبارہ ڈفینس رولز کے تحت اس پر پابندی عائد ہوئی جو ابھی تک جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب انڈین فلموں کی نمائش کی اجازت دی گئی تو پھر ان کے موکل نے عدالت سے رجوع کیا اور اسے دہرا معیار قرار دیا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت ہے مگر انیس سو پینسٹھ سے لے کر آج تک پاکستان فلم سینسر بورڈ فلم انمول گھڑی کی نمائش کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔

محبوب پکچرز کا کہنا ہے کہ اس فلم کی کہانی پاکستانی گلوکار نورجہاں کے گرد گھومتی ہے اور اس میں پاکستان کے مفادات کے خلاف کوئی چیز نہیں ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد فلسماز کو انمول گھڑی کی نمائش کی اجازت دے دی اور فلم سینسر بورڈ کو پابند کیا کہ تیس روز کے اندر رسمی کارروائی مکمل کی جائے۔

پاکستان فلم سینسر بورڈ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ فلم کو سینسر کردیا گیا ہے مگر ابھی تک کوئی سرٹیفکیٹ لینے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ دلیپ کمار کی مشہور فلم آن کے فلمساز بھی محبوب پکچرز ہے اور اس کے مالکانہ حقوق بھی اسی ادارے کے پاس ہیں۔