ڈرون حملہ: ’غیرملکیوں‘ سمیت اٹھارہ ہلاک

ڈرون طیارہ، فائل فوٹو
Image caption گاڑی میں سوار تینوں افراد غیر ملکی تھے لیکن تاحال ان کی قومیت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی ڈرون طیاروں کے حملے میں تین غیر ملکیوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق دو امریکی جاسوس طیاروں نے منگل کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے دس کلومیٹر دور تحصیل غلام خان کے علاقے بنگی دارا میں ایک مکان اور گاڑی کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جاسوس طیاروں نے چھ میزائل داغے جس کے نتیجے میں مکان کے دو سے تین کمرے اور قریب ہی کھڑی ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

پشاور سے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ حکام کے مطابق گاڑی میں تین جبکہ مکان میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق مکان کو مقامی طالبان ایک مرکز کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق ڈرون حملے میں مکان کے دو سے تین کمرے منہدم ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ گاڑی میں سوار تینوں افراد غیر ملکی تھے لیکن تاحال ان کی قومیت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والا علاقہ افغان سرحد پر واقع ہے اور شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کی نسبت افغان علاقے خوست سے زیادہ قریب ہے۔

حکام کے مطابق چونکہ یہ علاقہ افغان سرحد کے بلکل قریب ہے اس وجہ سے ابھی تک یہ واضح نہیں ہو رہا ہے کہ یہ حملہ سرحد کے ِاس طرف یا ُاس پار ہوا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں شمالی اور جنوبی وزیرستان دو ایسے قبائلی علاقے ہیں جہاں غیرمُلکی جنگجو اور مقامی طالبان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ اس لیے سب سے زیادہ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی یہی دو قبائلی علاقے ہیں۔

اسی بارے میں