ترک بحری بجلی گھر کی کراچی آمد

Image caption بجلی کی کمی اور اس کے نتیجے میں بار بار بندش سے ملک بھر میں صنعتیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں

بجلی کی کمی کے شدید بحران سے دوچار ملک پاکستان میں بجلی کی اضافی پیداوار کے لیے بحری جہاز پر قائم کرائے کا ترک بجلی گھر کراچی پہنچ گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو بجلی کی قریباً پانچ ہزار میگا واٹ کمی کا سامنا ہے۔ ملک میں موجود مختلف سرکاری ادارے یعنی پاکستان الیکٹرک پاور کپمنی، یا پیپکو، واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی یا واپڈا وغیرہ کے اپنے ذرائع سے بجلی کی اس کمی کا خاتمہ نہ ہونے پر موجودہ حکومت نے کرائے کے بجلی گھروں کے ذریعے اس کمی پر قابو پانے کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں کرائے کے نو مختلف بجلی گھروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اور ان میں سے پہلا بجلی گھر جو بحری جہاز پر قائم دنیا کا سب سے بڑا بجلی گھر ہے، اب کراچی پہنچ گیا ہے۔

وفاقی وزیر جہاز رانی بابر خان غوری کا کہنا ہے کہ یہ جہاز کراچی کورنگی کے قریب لنگر انداز ہوکر بجلی پیدا کرے گا۔

کراچی میں بجلی پیدا کرنے اور اسے عوام کو فراہم کرنے کے ذمہ دار ادارے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن یا کی ای ایس سی کو سن دو ہزار پانچ میں نجی شعبے میں دیا جاچکا ہے اور اس ادارے کو بھی بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

بعض حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا پیپکو بھی اب تحلیل کی جارہی ہے اور پیپکو اور واپڈا ہی کراچی میں لاحق بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے قریباً ساڑھے چھ سو میگاواٹ بجلی فراہم کرتے ہیں۔ خود کے ای ایس سی کے حکام اکثر یہ موقف اختیار کرتے ہیں بجلی کی تقسیم کاری کے نظام میں خرابیوں، گھریلو اور صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کی چوری، اور بدنظمی پر بجلی کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے کمی کا سامنا ہے۔

واپڈا سے منسلک ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ واپڈا کراچی کو قریباً ساڑھے چھ سو میگا واٹ بجلی فراہم کرتا ہے۔ اب کورنگی کے قریب لنگر انداز ہونے والا کرائے کا یہ ترک بجلی گھر دو سو بتیس میگا واٹ کے لگ بھگ بجلی پیدا کرے گا۔ کے ایس ایس سی کے افسر تعلقات عامہ عامر عباسی نے بتایا کہ اس بجلی کی پیداوار اور نیشنل گرڈ تک اس کی منتقلی کے لیے کی ای ایس سی کا نظام اور پیداواری و تقسیم کاری کا ڈھانچہ استعمال ضرور ہوگا مگر یہ بجلی نیشنل گرڈ میں جائے گی اس لیے اس بارے میں واپڈا یا پیپکو حکام ہی کچھ بتاپائیں گے۔

پیپکو اور واپڈا کے حکام بھی نام ظاہر کئے بغیر یہی بتانے پر راضی ہوئے کہ دراصل یہی بجلی یعنی دو بتیس میگا واٹ کراچی ہی کو دی جائے گی اور یوں وفاقی ادارے کی جانب سے کراچی کو دی جانے والی بجلی کے ساڑھے چھ سو میگا واٹ کمی کا جو فرق سامنے آئے گا، یعنی قریباً چار سو بیس میگا واٹ وہ وفاقی ادارے ہی فراہم کریں گے تاکہ لائن لاسز یا تقسیم کے دوران بجلی کے ضیاع کو روکا جاسکے یا کم کیا جاسکے۔

بعض ذرائع کے مطابق ترک بحری جہاز پر قائم بجلی گھر کی پیداوار کی شروعات اتوار اکیس نومبر کو ہوگی مگر کرائے کا دوسرا بجلی گھر جو ایک سو دس میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، قریباً دو ماہ بعد پاکستان پہنچے گا۔

ترک جہاز کے مالک ادارے کارکے کراڈے نیز الیکٹرک کے ترجمان اسد محمود نے بتایا کہ حکومت سے معاہدے کے تحت یہ جہاز کراچی آیا ہے جو پانچ برس تک بجلی فراہم کرتا رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس جہاز کے ذریعے پیدا کی جانے والی بجلی کی قیمت حکومت طے کرے گی اور معاہدے کی مالیت کے بارے میں بھی حکومت سے پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے کا کام صرف بجلی پیدا کرکے حکومت کو فراہم کرنا ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق کرائے کے یہ بجلی گھر بھی پاکستان بھر کو لاحق بجلی کی اس کمی کو پورا نہیں کرپائیں گے جو قریباً پانچ ہزار میگا واٹ ہے۔ بجلی کی شدید کمی کے نتیجے میں ملک کے پیشتر حصوں میں مختلف اداروں کے ذریعے بجلی کی لوڈ مینجمنٹ یا لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، جس کا دورانیہ کئی شہروں کے بعض علاقوں میں دس بارہ یا چودہ گھنٹے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اور بجلی بند رہنے سے شہری اور عوامی حلقوں میں زبردست اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ اکثر اوقات احتجاجی مظاہرین سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور ٹائر و دیگر اشیاء نذر آتش کرکے اپنا غصہ اتارتے ہیں۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار جعفر رضوی کے مطابق بجلی کی کمی اور اس کے نتیجے میں بار بار بندش سے ملک بھر میں صنعتیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں اور صنعتی پیداوار کو بھی زبردست نقصان پہنچا ہے۔ مگر شہری حلقوں کی شکایت ہے کہ متعلقہ ادارے ہر آئے دن بجلی کے نرخ بڑھا کر پہلے ہی سے مہنگی بجلی کو عوام کی پہنچ سے دور کیے جارہے ہیں مگر عوام کو سہولت کی فراہمی کے لیے کچھ بھی نہیں کرپارہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ پر کرائے کے بجلی گھروں کا معاملہ سیاسی رخ اختیار کرچکا ہے، اور اس کے بعد سپریم کورٹ کی عدالتی سطح پر اس معاملے پر ہونے والی پیشرفت نے صورتحال کو اس قدر نازک بنادیا ہے کہ اب کسی متعلقہ ادارے کا کوئی سرکاری یا غیر سرکاری افسر کچھ بھی بتانے یا کہنے کو تیار دکھائی نہیں دے رہا۔

اسی بارے میں