بالاچ مری کی برسی پر ہڑتال

کوئٹہ میں ہڑتال

بلوچستان میں سنیچر کو بلوچ رہنماء نوابزاد بالاچ مری کی تیسری برسی کے موقع پر اکثر علاقوں میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق مری قبیلے کے سربراہ اور قوم پرست رہنماء نواب خیربخش مری کے صاحبزادے اور سابق رکن صوبائی اسمبلی میر بالاچ مری کی تیسری برسی صوبے کے اکثر علاقوں میں عقیدت واحترام سے منائی گئی۔

اس موقع پر انجمن اتحاد مری اور بلوچ ریپبلیکن پارٹی کی اپیل پر نہ صرف کوئٹہ اور صوبے کے بڑے شہروں گوادر، تربت، خضدار، قلات، نوشکی، دالبندین، مستونگ، نصیر آباد، ڈیر بگٹی، پنجگوراور کوہلو میں شٹرڈاؤن ہڑتال رہی بلکہ تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بھی بند رہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ کراچی ،کوئٹہ جیکب آباد اور کوئٹہ تفتان قومی شاہراہیں ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند رہیں۔

ہڑتال کے موقع پر حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے اور پولیس کے ساتھ فرنٹیئرکور کو بھی کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا تھا۔

انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان ملک محمد اقبال نے ہڑتال کے موقع پر کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

دوسری جانب بعض نامعلوم افراد نے سبی چھاؤنی پر نو راکٹ فائر کیے۔ بلوچ لیبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرکے راکٹ فائرکرنے کے ذمہ داری قبول کی۔ جبکہ کل رات کو ہی کوئٹہ شہر پر فائر ہونے والے راکٹوں کی ذمہ داری بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے قبول کی ہے۔

ہڑتال کے بارے میں انجمن اتحاد مری نے ایک بیا ن میں کہا ہے کہ بلوچ قوم اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے ’بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جارہی ہیں جس کے خلاف بلوچ قوم متحد ہو کر جد وجہد جاری رکھنا چاہے‘۔

اسی بارے میں