ڈرون حملے:’ریڈ لائن کی خلاف ورزی کا امکان نہیں‘

Image caption ’امریکی انتظامیہ سے پہلے ہی بات چیت چل رہی ہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں‘

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کے دائرے کو بڑھانا کسی طور پر پاکستان کو قابلِ قبول نہیں ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے اسلام آباد میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں مددگار ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔

ڈرون حملوں پر خصوصی ضمیمہ

انھوں نے کہا کہ جہاں تک امریکی اخبار کی ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع کرنے کے بارے میں خبر کا تعلق ہے ’پاکستان کی پوزیشن بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ ہم کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری امریکی انتظامیہ سے پہلے ہی بات چیت چل رہی ہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں‘۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق میں ترجمان نے کہا کہ ڈرون حملوں کے دائرے کو بڑھانے کے بارے میں’ہم واضح طور پر امریکہ کو بتا چکے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہماری بات سمجھتے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اس بات کا کوئی امکان ہے کہ وہ ہماری ریڈ لائنز کی خلاف ورزی کریں گے‘۔

خیال رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ روز ایک خبر شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت نے ڈرون حملوں کے دائرے کو کوئٹہ تک وسیع کرنے کی درخواست کی ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی طرف سے کیے جانے والے ان حملوں میں اس سال شدت آئی ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس سال اب تک سو سے زیادہ حملے کیے جا چکے ہیں۔

یہ حملے زیادہ تر شمالی وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کے سینئر ارکان کو نشانہ بناننے کے لیے کیے گیے۔ حکومتِ پاکستان سرکاری طور پر ان حملوں کی مذمت کرتی ہے۔

اسی بارے میں