پیٹر گیبرئل کتنا کرے ؟

پاکستان ایک ملک ضرور ہے لیکن کوئی قوم یہاں بستی ہے یا نہیں۔ یہ وہ مباحثہ ہے جس پر اگلے تریسٹھ برس تک بحث ہوسکتی ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ یہاں اٹھارہ کروڑ افراد ضرور رہتے ہیں۔

پاکستان جہاں فوج ، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور موٹر وے پولیس کے علاوہ کوئی منظم ادارہ نہیں۔ جہاں بیشتر معززین کے دو چہرے ہیں۔ جہاں ننانوے فیصد ادارے بوجھ اٹھاتے نہیں اٹھواتے ہیں۔ جہاں جو جتنا تعلیم یافتہ ہے اتنا ہی سفاک ہے۔ جہاں سچ کو زندہ رہنے کے لیے جھوٹ کی مسلسل آکسیجن درکار ہے۔ جہاں باصلاحیت ہونا یا آگے بڑھنے کا جذبہ دکھانا چھوٹا دماغ اور اوسط سوچ رکھنے والے ہجوم کے ہاتھوں موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ پھر بھی ایسے تاریک آسمان پر جب کوئی انفرادی ستارہ خود سے ہی چمک جاتا ہے تو تالیاں پیٹنے اور اس ستارے کی چمک میں چمکنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہوتی۔

یہ المیہ محمد علی جناح سے شروع ہوتا ہے۔جنہوں نے کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ لیکن جب جناح نے پاکستان بنا لیا تو یہی کھوٹے سکے اتنے زور سے کھنکھنائے کہ خود جناح کی آواز دب گئی۔

اس ملک نے چار بڑی جنگیں لڑیں اور چاروں میں شکست کھائی لیکن اگر یہ جنگیں یاد رکھی جاتی ہیں تو صرف افراد کے طفیل۔کیپٹن سرور ، میجر طفیل، میجر عزیز بھٹی، راشد منہاس ، لانس نائک سوار ، کرنل شیر خان ۔۔۔۔۔

اس ملک نے اقتصادی میدان میں کبھی ایسا کارنامہ نہیں کیا جو مستقل نوعیت کا ہو لیکن اس ملک کے ماہرینِ اقصادیات نے عالمی مالیاتی اداروں میں اپنا انفرادی لوہا ضرور منوایا۔جب بھی پٹے ہوئے ماہرینِ معیشت سے بات ہو تو وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ دیکھیے صاحب ڈاکٹر محبوب الحق بھی تو پاکستانی تھے جنہوں نے جنوبی کوریا کے لیے اقتصادی ترقی کا بلیو پرنٹ بنایا تھا۔

اس ملک میں کسی نے بھی سوشل سکیورٹی کے ادارے کو مستحکم کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن ہر کوئی کہتا ہے بھائی جان عبدالستار ایدھی ایک پاکستانی ہے۔ آپ عورتوں کے حقوق کی پامالی کی بات کرتے ہیں، عاصمہ جہانگیر اور مختاراں مائی بھی تو اسی ملک کی عورتیں ہیں۔ آپ کو سائنس و ٹیکنالوجی کی پسماندگی بہت کھلتی ہے لیکن ڈاکٹر عبدالسلام ، ڈاکٹر قدیر اور ثمر مبارک مند بھی تو اسی خاک نے پیدا کیے۔

آپ کو یہ تو نظر آتا ہے کہ ہمارے کھلاڑی بہت غیر ذمہ دار اور لالچی ہوگئے ہیں۔لیکن ہاشم خان، فضل محمود ، عمران خان ، میانداد اور اصلاح الدین کو آپ کہاں رکھیں گے۔اور اب تو پاکستانی کرکٹ میں کپتان ثناء میر نے بھی پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔حالانکہ ثناءمیر کو فون کرنے والے وزیرِ اعظم گیلانی سمیت جتنے لوگ اس وقت تالیاں بجارہے ہیں ان میں سے اعشاریہ ایک فیصد بھی تین دن پہلے تک ثناء میر کے نام سے بھی واقف نہیں تھے۔

سب کہتے ہیں چین ترقی کررہا ہے۔کیا کوئی یہ بھی کہتا ہے کہ چین نے تو ترقی نہیں کی البتہ وہاں ڈینگ ژیان نے ٹیبل ٹینس میں خوب نام پیدا کیا ہے۔سب کہتے ہیں جاپان نے ترقی کی ہے۔یہ کوئی نہیں کہتا کہ تارا ہوسا سوزوکی وہاں کا سب سے معروف سماجی کارکن ہے جس نے جاپان کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔

یقیناً انفرادی ستاروں پر فخر کرنا چاہیے۔اس سے حوصلہ ملتا ہے اور بڑھتا ہے۔لیکن یہ ستارے آپ نے اور میں نے تو نہیں چمکائے۔یہ سب اپنے بل بوتے پر نامساعد حالات کے باوجود چمکے اور پھر بے توقیری کی دھند میں کھوگئے۔

کبھی خود بھی تو اپنے لوگوں کو چمکانے کا سوچیے۔یا یہ کام بھی کسی نصرت فتح علی خان کو دریافت کرنے والا کوئی پیٹر گیبرئیل ہی کرتا رہے گا۔

اسی بارے میں