بلوچستان:مزید پانچ مسخ شدہ لاشیں برآمد

فائل فوٹو
Image caption بلوچستان میں اس سے پہلے بھی نامعلوم افراد کی لاشیں ملی تھیں

بلوچستان کے ضلع پشین سے مزید پانچ نامعلوم افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں کئی ماہ قبل ہلاک کیا گیا تھا۔

مسخ ہونے کے سبب اب تک ان لاشوں کی شناخت نہیں ہو پائی ہے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق مقامی حکام نے بتایا ہے کہ ان لاشوں کے ساتھ کپڑے اور جوتے بھی ملے ہیں جس کے ذریعے ان کی شناخت اور ورثاء کو تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ عید کے تین دنوں میں بھی صوبے کے مختلف علاقوں تربت،گوادر، خضدار، مستونگ اور قلات سے بھی سات مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

ان میں بلوچ نیشنل موومنٹ گوادر کے صدر اور مقامی صحافی لالاحمید، خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی کے سال سوئم کے طالب علم سمیع اللہ مینگل ،مستونگ میں بی ایس او( آزاد) سے تعلق رکھنے والے بشیراحمد، عصمت اللہ اور تربت میں موٹر مکنیک حامد اسماعیل اور قلات سے نصراللہ بلوچ کی لاش شامل تھی ۔

بلوچ طلباء تنظیم بی ایس او( آزاد) کے ترجمان سلام صابر کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اغواء ہونے والے پچپن سے زیادہ لاپتہ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں اب تک مل چکی ہیں۔

سلام صابر نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں سابق فوجی دورِ حکومت میں لاپتہ ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن حکومتی دعوؤں کے باوجود کوئی لاپتہ بلوچ اب تک منظرعام پر نہیں آیا ہے بلکہ اب توان کی لاشیں ملنی شروع ہوئی ہیں۔

لیکن پاکستان کی مرکزی حکومت نے ہمیشہ ان دعوؤں کی تردید کی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے دو نومبر کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں کسی بےگناہ شخص کے خلاف کاروائی نہیں ہو رہی ہے۔

بقول رحمان ملک صرف ان لوگوں کے خلاف جوابی کاروائی کی جاتی ہے جو صوبے کے مختلف علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے والی سکیورٹی فورسز پر بم اور راکٹ حملوں جیسے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں