’معافیاں اور پیکج منافقت ہیں‘

Image caption بلوچ مزاحمت کاروں کے پہاڑوں پر ٹھکانے ہیں

بلوچستان میں پانچ سال پہلے شروع کیے گئے مبینہ فوجی آپریشن کے بعد سے اب تک حالات بظاہر مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔

سابقِ صدر پرویز مشرف کے بعد موجودہ حکومت سے توقع تھی کہ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے گا لیکن بقول مبصرین کے اس حکومت کے پاس بلوچستان کے مسئلے کے حل کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔

بلوچ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کی معافیاں اور بلوچستان پیکج منافقت ہے۔بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی وفاق کے حامی تھے اور آخر دم تک ان کی یہی کوشش تھی کہ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔

پرویز مشرف کے دور میں آپریشن شروع ہونے سے پہلے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا لیکن پھر ٹینک اور توپخانے پہنچنے کے بعد نواب اکبر بگٹی کے بیانات میں بھی تلخی نظر آنے لگی اور ان کی طرف سے ایسے بیانات بھی دیے کہ توپوں اور ٹینکوں کے ذریعے اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو ہاں وہ ہو رہے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی آپریشن سے پہلے اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے پہلے ماضی کی زیادتیوں پر بلوچوں سے معافی مانگی اور پھر فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا جسے انھوں نے کامیاب قرار دیا تھا۔

یہ تو تھے بلوچستان میں دسمبر سن دو ہزار پانچ میں شروع کیے گئے آپریشن سے پہلے اور اس آپریشن کے دوران کے حالات لیکن اب حالات یکسر مختلف ہیں۔

پانچ برس میں بلوچستان کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے بلوچستان پیکج کو قوم پرست رہنما ڈھونگ قرار دیتے ہیں۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما ڈاکٹر حکیم لہڑی نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ’ صدر زرداری اور وزیر اعظم کے پاس مذاکرات کرنےکا اختیار نہیں ہے اور ہمارے حکمران فوج اور خفیہ ایجنسیاں ہیں۔‘

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دیگر صوبوں خاص طور پر صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی کارروائیاں شروع ہوئیں تو بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر گئے۔ اب کچھ عرصہ سے بلوچوں کی بھی لاشیں مل رہی ہیں۔

اس بارے میں ڈاکٹر حکیم لہڑی نے کہا کہ یہ جنگ بلوچوں پر مسلط کی گئی ہے اور بلوچ اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔ اگر ہر گھر میں لاشیں پہنچیں گی تو باقی لوگ خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ وہ ان لوگوں سے ملیں گے جو پہاڑوں پر پہلے سے موجود ہیں۔

اس بارے میں پنجاب حکومت کے ترجمان اور مسلم لیگ نواز کے رہنما پرویز رشید سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانا پنجاب کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان کے آئین اور قانون میں ہے کہ ہر پاکستانی کہیں بھی جا کر کام کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں میں محرومیاں ہیں اور غصہ ہے اور کسی بھی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی ہے۔

پرویز رشید کے مطابق بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ابتدائی طور پر ان جماعتوں یا قوتوں سے بات چیت شروع کی جائے جو آزادی نہیں بلکہ وفاق کے حامی ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آگے چل کر یہ قوتیں بھی ان لوگوں کے زیادہ قریب ہو جائیں جو آزادی چاہتے ہیں۔

اقتدار میں آنے کے بعد موجودہ حکومت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آتے تھے کہ ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کیے جائیں گے لیکن ان رہنماؤں نے کہا کہ ان سے کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے بلکہ ان رہنماؤں نے کہا کہ وہ بلوچستان کی آزادی چاہتے ہیں۔

اس ساری صورتحال کے بارے میں بلوچستان کے سینئر صحافی انور ساجدی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں یا تو کی نہیں گئیں یا انھیں کرنے نہیں دی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان قوتوں کے پاس ہے جو اسے نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ سمجھتے ہیں اس لیے وفاقی حکومت کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔

بلوچستان میں اس وقت خوف کی فضا پائی جاتی ہے صوبے کے مختلف علاقوں میں کہیں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہے تو کہیں بلوچوں کی لاشیں مل رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے اس طرح کی صورتحال میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور وہ لوگ بھی جو اب تک سیاسی سطح پر اپنے حقوق کی باتیں کر رہے تھے ہو سکتا ہے کہ وہ ان قوتوں کے ساتھ ہو جائیں جو مسلح جدو جہد کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں