اسلام آباد اور بلوچستان میں دوریاں

بلوچستان کے گم شدہ افراد
Image caption حکومت نے کہا تھا کہ ایک برس میں بلوچستان کے گم شدہ افراد کا بھی پتہ لگایا جائے گا

آغازِ حقوق بلوچستان کے خصوصی پیکیج کے ایک سال گذرنے کے بعد بھی وفاقی حکومت قوم پرست جماعتوں کو مذاکرات پر آمادہ نہیں کرسکی ہے جس کے باعث اسلام آباد اور بلوچستان کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے چوبیس نومبر سال دوہزار نومیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے آغازحقوق بلوچستان پیکیج کے تحت اعلان کیا تھا کہ بلوچستان کے تمام لاپتہ افراد عید سے قبل منظر عام پر آجائیں گے، صوبے میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر بند کر دیں گے اور ناراض بلوچوں سے مذاکرات کریں گے۔

لیکن ایک سال گذرنے کے باوجود صوبے میں ٹارگٹ کلنگ ، بم دھماکوں اور سیاسی کارکنوں کی اغواء نماگرفتاریوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لشکری رئیسانی کا کہنا ہے کہ صوبے میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کا سلسلہ روک دیا گیا ہے صوبے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پانچ ہزار ملازمتیں دی گئیں ہیں۔جبکہ لاپتہ افراد کامسئلہ ابھی تک برقرار ہے۔ لشکری کے مطابق پیکیج پر جزوی طور پرعمل ہوا ہے لیکن بہت سے مسائل ابھی حل طلب ہیں۔

پیکیج کے تحت حکومت نے بلوچستان کے دس ہزار بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں سے صوبائی حکومت نے محمکہ تعلیم میں پانچ ہزار نوجوانوں کو روزگار فراہم کردیا ہے۔

لیکن یہاں بہت سے بے روزگار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ بلوچستان پیکیج نہیں بلکہ وزراء پیکیج تھا جس میں میرٹ کو پامال کر کے وزراء اور بیوروکریسی، سفارش اور اقرباء پروری کے ذریعے اپنے ہی لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔

لیکن وفاقی وزیر داخلہ رحمنٰ ملک کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

انہوں نے بلوچستان کے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے آئیں حکومت ان کو روزگار فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے دوسرے صوبوں کی خالی اسامیوں پر بھی بلوچستان کے لوگوں کو بھرتی کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ نو ہزار سے زیادہ اسامیاں وفاقی حکومت میں بھی خالی ہیں جس پر جلد بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار دیا جائے گا۔

دوسری جانب بلوچ قوم پرستوں کا کہناہے کہ ایک سال گذرنے کے باوجود صوبے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ سیاسی کارکنوں کی اغواء نماء گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات آغاحسن نے بتایا کہ آغازحقوق بلوچستان پیکیج کے بعد صوبے میں لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور شدت کے ساتھ بلوچ نسل کشی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ آج بھی بلوچستان میں صوبائی اور مرکزی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ صوبے میں عملاً مارشل لاء نافذ ہے۔‘

صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبرحسین درانی نے بتایا کہ آغاز حقوق بلوچستان کے تحت لاپتہ افراد کومنظرعام پر لانے کے لیے قائم شدہ کمیشن کا کام جاری ہے ۔جس کے تحت بائیس افراد منظرعام پر آ چکے ہیں اور تہتر معاملات پر کام جاری ہے۔

بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے لاپتہ رہنماء ودود رئیسانی کی بہن نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ جب وہ اپنے بھائی کو منظرعام پر لانے کے لیے کمیشن کے سامنے پیش ہوئی تھی توکمیشن کے ارکان نے صرف ان کے کپڑوں کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ آپ نے یہ کپڑے خود بنوائے ہیں کیا ؟

مگراس کے باوجود لاپتہ افراد کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جولائی سے لیکر اب تک پچاس سے زیادہ لاپتہ بلوچ کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

دوسال قبل لاپتہ ہونے والے جلیل ریکی کے والد ماما قدیر بلوچ نے بتایا کہ گذشتہ چار مہنوں کے دوران پچاس مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں اور عید لیکر اب تک نو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

بلوچستان میں زیادہ تر قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ افراد کو منظرعام پر نہیں لایا جائے گا۔ جماعتوں کے بقول جب تک سکیورٹی فورسز کو بیرکوں تک محدود نہیں کیا جائے گااس وقت تک بلوچستان کے مسئلے پر کوئی سیاسی رہنماء وفاقی حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں