پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی توثیق

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی نےجوڈیشل کمیشن کی طرف سے جسٹس اعجاز چوہدری کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارشات کی توثیق کردی جبکہ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد ایوان نیئر حسین بخاری کو اس کمیٹی کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا ہے۔ اعلی عدالتوں میں یہ پہلی تقرری ہے جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کی شق 175 اے کے تحت پارلیمانی کمیٹی نے کی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس خواجہ شریف اگلے ماہ کی آٹھ تاریخ کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو توثیق کے ساتھ وزیر اعظم کو بھجوائیں گے جہاں سے یہ سفارشات صدر مملکت کو بھجوائی جائیں گی اور صدر لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

نیئر حسین بخاری آئندہ سال مارچ تک اس عہدے پر فائز رہیں گے جس کے بعد نئے چیئرمین کا انتخاب ہوگا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں کمیٹی کے قواعد وضوابط پر غور کیا گیا۔ قواعد وضوابط کے مطابق اجلاس میں پانچ ارکان کا کورم ہوگا جبکہ پارلیمانی کمیٹی کے آٹھ ارکان میں سے چھ ارکان جوڈیشل کمیشن کی طرف سے بھجوائی جانے والی سفارشات کو مسترد کرنے کے مجاز ہیں۔ اس پارلیمانی کمیٹی کے حکومت اور حزب اختلاف کے چار چار ارکان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم پر دیے جانے والے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جوڈشیل کمیشن کی سفارشات کو پارلیمانی کمیٹی میں نامنظور ہونے کی صورت میں پارلیمانی کمیٹی کو ٹھوس وجوہات بیان کرنا ہوں گی جس کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لایا جائے گا اور عدالت اس سے متعلق فیصلہ دے گی۔

پارلیمانی کمیٹی کا آئندہ اجلاس اُس وقت ہوگا جب جوڈیشل کمیشن کی طرف سے کوئی نئی تجاویز پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی جائیں گی۔

اسی بارے میں