سابق آئی جی پولیس کے خلاف ریفرنس

ملک نوید
Image caption ملک نوید چند ماہ قبل انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے

قومی احتساب بیورو یا نیب نے صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس اور کمانڈنٹ فرنٹئیر کانسٹیبلری ملک نوید کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی بھرتیاں کرنے کے الزام میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔

بدھ کو نیب کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس احتساب عدالت میں پشاور میں داخل کر دیا گیا ہے۔

اس ریفرنس میں ایف سی کے تین دیگر اہلکاروں کو بھی شریک ملزمان نامزد کیا گیا ہے جن میں پرسنل سٹاف افسر غنی الرحمان، ای ٹی او حامد حسن اور سابق ضلعی افسر ایف سی محمد شعیب شامل ہیں۔

پشاور ے بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا ہے کہ نیب کےاس بیان کے مطابق ملک نوید نے سنہ دو ہزار سات میں بطور کمانڈنٹ ایف سی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سات سو افراد کو ایف سی میں بھرتی کیا تھا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بھرتیوں میں قواعد و ضوابط اور میرٹ کا خیال نہیں رکھا گیا بلکہ اخبارات میں جتنی آسامیوں کی تشہیر کی گئی تھی بعد میں اس سے زیادہ افراد بھرتی کیے گئے۔ تاہم ابھی تک ملزمان میں کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ملک نوید کا موقف جاننے کے لیے بی بی سی نے ان سے بار بار رابطے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق آئی جی فرار ہو کر بیرونی ملک چلے گئے ہیں تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ ملک نوید چند ماہ قبل انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ملازمت کے آخری دنوں کے دوران بھی ان پر یہ الزامات لگتے رہے کہ انہوں نے پولیس کے لیے اسلحہ خریداری کے ایک معاہدے میں بھی غبن کیا تاہم بعد میں انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ان الزامات کی تردید کی تھی۔

اسی بارے میں