سیلاب: معذور وطن کارڈ سے محروم

فائل فوٹو
Image caption سیلاب سے متاثرہ معذور بچے سہولیات سے محروم ہیں

پاکستان میں تین ماہ پہلے آئے سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں ان میں ایسے معذور بھی ہیں جو یا تو دیکھ نہیں سکتے یا چل نہیں سکتے۔

خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ایسا متاثرہ خاندان ہے جس کے بیشتر افراد نابینا اور معذور ہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس خاندان کو وطن کارڈ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک دیہات بند کورائی میں غلام بشیر اور ان کے تین بیٹے پیدائشی نابینا ہیں جبکہ بیٹی پیدائشی معذور ہے اور چل نہیں سکتی۔ غلام بشیر کی بیوی دیکھ تو سکتی ہے لیکن وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

تین ماہ پہلے سیلاب سے اس خاندان کا واحد کچا مکان پانی میں بہہ گیا تھا۔ غلام بشیر کی بیوی نے بتایا کہ جب سیلاب آیا تو انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ نابینا شوہر، تین نابینا بیٹوں اور ایک معذور بیٹی کو کیسے بچاؤں گی۔

ان کا کہنا تھا ’جب سیلاب آیا تو دو بیٹے زمین پر بیٹھے تھے، میرے شوہر اور بیٹے بیٹی کو ہمارے رشتہ دار مشکل سے لےگئے تھے۔ ان دونوں کی فکر لاحق تھی اور گھر کی دیواریں اور چھت گر چکی تھی اتنے میں علاقے کے لوگوں نے گھر میں داخل ہو کر ان دونوں بیٹوں کو بھی پانی سے نکال لیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی زندگی بہت مشکل ہے اگر انھیں کہیں جانا ہو تو ان چاروں کو ہاتھ سے پکڑ کر لے جاتے ہیں لوگ آکر مدد کردیتے ہیں ورنہ حکومت کی جانب سے صرف ایک مرتبہ خوراک ملی تھی لیکن انھیں وطن کارڈ جاری نہیں کیا گیا اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی ہے۔

Image caption سرکاری اہلکار تفصیلات لکھ کر لےگئے مگر کارڈ نہیں ملا

انھوں نے کہا کہ حکومتی اہلکار ان کا نام پتہ لکھ کر لےگئے تھے لیکن نہ کارڈ ملا نہ رقم اور نہ ہی کوئی اور امداد ملی ہے۔

غلام بشیر کے نابینا بیٹے اشفاق نے بتایا کہ وہ اپنے اس حال پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ان کی زندگی اچھی گزر رہی ہے لیکن اگر ہمیں بھی نظر آتا تو دیگر بچوں کی طرح وہ بھی بھاگتے دوڑتے اور کھیلتے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب اور بارشوں سے کوئی آٹھ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کوحکومت کی جانب سے مالی امداد کے طور پر وطن کارڈ جاری کیے گئے ہیں لیکن اس شہر کی چند اے ٹی ایم مشینوں پر لوگوں کی قطاریں لگی نطر آتی ہیں۔

ان شکایات پر کہ اکثر متاثرین کو وطن کارڈ جاری نہیں کیے گئے حکومت کی جانب سے یہی جواب موصول ہوتا رہا ہے کہ وہ اس بارے میں چھان بین کر رہے ہیں اور بیشتر متاثرین کی امداد کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں