اصلاح شدہ جی ایس ٹی کا نفاذ خطرے میں

فائل فوٹو، پاکستانی کرنسی
Image caption جنرل سیلز ٹیکس میں اصلاحات کی موجودہ کوششوں سے بلیک اکانومی کے حصہ داروں کو خطرات لاحق ہیں: ماہرین

پاکستان میں مصنوعات اور خدمات پر اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کا نفاذ سیاسی معاملہ بن چکا ہے جس کی بیشتر سیاسی جماعتوں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔

بعض اوقات کی کسی تکنیکی جواز سے عاری اس مخالفانہ مہم نے پاکستانی معیشت میں اصلاح کی اس کوشش کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں غیر قانونی معیشت یا ’بلیک اکانومی‘ کا حجم غیر معمولی حد تک بڑا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس میں اصلاحات کی موجودہ کوششوں سے بلیک اکانومی کے حصہ داروں کو خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس مختلف ناموں سے طویل عرصے سے لاگو ہے۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کے نام سے نیا ٹیکس تو لاگو ہو گیا تھا لیکن اس ٹیکس کی روح کو نافذ نہیں کیا جا سکا۔

اس ٹیکس کے نظام کی روح ہے کاوربار کی دستاویز بندی۔ اس نظام کے تحت جو بھی مصنوعات فروخت کی جارہی ہیں ان پر خریدکنندگان سے ایک مخصوص شرح کے تحت ٹیکس وصول کیا جائے گا جسے فروخت کنندہ حکومت کے کھاتے میں جمع کروائے گا۔

پاکستان میں اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد سے مصنوعات تیار کرنے اور بیچنے والوں نے صارفین سے تو یہ ٹیکس وصول کرنا پہلے دن ہی سے شروع کر دیا تھا لیکن اسے سرکاری خزانے میں جمع کروانے میں حکام کے مطابق بیشتر تاجر اور صنعت کار ناکام رہے ہیں۔

اس ٹیکس کو صارف سے وصول کر کے مصنوعات بنانے اور بیچنے والوں نے اضافی نفع کمایا اور یہ ٹیکس سرکاری کھاتے میں جمع نہ کروا کے وہ حکومت کے پاس رجسٹر ہونے سے محفوظ رہے۔

ماہر معیشت اسد سعید کا کہنا ہے کہ یہی تاجر اور صنعت کار پہلے والے جی ایس ٹی اور موجودہ اصلاح شدہ جی ایس ٹی کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔

’ان لوگوں کی بہت بڑی اور مضبوط لابی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی تاجر اور صنعت کار سیاست دان بھی ہیں اور بہت سے بیوروکریٹ بھی۔ ان میں بعص کو تو شائد ٹیکس دینے پر بھی اعتراض نہ ہو لیکن دراصل وہ حکومت کے کھاتوں میں شامل نہیں ہونا چاہتے کہ اس طرح ان کا کاروبار غیر رسمی معیشت سے نکل کر ملک کی باضابطہ معیشت کا حصہ بن جائے گا۔‘

بظاہر یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ اگر پندرہ فیصد جی ایس ٹی دینے میں ان کاروباری اداروں اور حضرات کو مشکل نہیں تو پھر اصلاح شدہ جی ایس ٹی کی مخالفت کیوں؟

اس کی وجہ بہت سیدھی سی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اصلاح شدہ جی ایس ٹی بذات خود سرکار کی آمدن بڑھانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ موجودہ پندرہ فیصد شرح سے اصلاح شدہ جی ایس ٹی نافذ ہو جانے سے بھی حکومت کو زیادہ سے زیادہ ستر ارب روپے کی اضافی آمدن ہو گی۔

لیکن انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یا آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے ماہرین نے حکومت کو بتایا ہے کہ یہ ٹیکس ادا کرنے والوں کے کاروباری حجم سے حکومت آگاہ ہو جائے گی اور اس کی بنیاد پر اس کاروبار پر دیگر براہ راست ٹیکس بھی عائد کیے جا سکیں گے جو شائد اس سے پہلے ادا نہیں کیا جا رہا تھا۔

اس ٹیکس نظام کا دوسرا اور اصل فائدہ یہ ہے کہ جب کوئی صنعت کار یا تاجر جنرل سیلز ٹیکس دے گا تو اسے حکومت کو یہ بتانا ہو گا کہ اس نے اپنی مصنوعات کس خام مال سے بنائی یا کس سے خریدی۔ اس طرح پوری صنعتی یا کاروباری کڑی میں اگر ایک بھی جگہ سے جی ایس ٹی دینے والا رجسٹر ہو گیا تو اس سے جڑی تمام دیگر کڑیوں تک حکومت کی رسائی ممکن ہو جائے گی۔

اس ٹیکس کے نافذ ہونے سے بعص مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ جیسے کہ کپڑے کی مصنوعات کیونکہ ٹیکسٹائل صنعت ان بیسیوں صنعتوں میں شامل تھی جنہیں اس وقت جی ایس ٹی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ حکومت نے کھانے پینے، جان بچانے والی ادویات اور اس طرح کی بعض اہم مصنوعات کے علاوہ باقی ہر قسم کی مصنوعات کو جی ایس ٹی میں حاصل استثنیٰ کو بھی ختم کرنے کو اس نئے قانون کا حصہ بنا دیا ہے۔

اسی بارے میں