’خفیہ ایجنسیوں کوطلب نہیں کیا جا سکتا‘

سپریم کورٹ
Image caption چیف جسٹس کے مطابق سپریم کورٹ عدالت میں کسی کو بھی طلب کر سکتی ہے

پاکستان کے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ خفیہ ایجنسیاں کسی قانون کے تحت کام نہیں کر رہیں اور ان اداروں کو براہ راست عدالت میں طلب نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو آئین نے اختیار دیا ہے کہ وہ کسی کو بھی طلب کرسکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے یہ جواب اڈیالہ جیل سے لاپتہ ہونے والے گیارہ قیدیوں کی گمشدگی سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے استفسار پر دیا جس میں اُنہوں نے پوچھا تھا کہ کیا خفیہ ادارے کسی قانون کےتحت کام کرتے ہیں یا نہیں۔

ان افراد کی گمشدگی سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے انٹر سروسز انٹیلیجنس ( آئی ایس آئی) ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) اور انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کی جانب سے اُن نوٹسز کے جوابات عدالت میں پیش کیے۔

سپریم کورٹ نے خفیہ اداروں کے سربراہوں سے اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق جواب طلب کیا تھا۔ ان اداروں کی طرف سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد خفیہ اداروں کی تحویل میں نہیں ہیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 79 کے تحت خفیہ ایجنسیوں کو طلب نہیں کیا جاسکتا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 185 کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی شخصیت اور اہلکار کو طلب کرسکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کی اس دلیل کے بعد اس نکتے پر زور نہیں دیا۔

سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے نکات اُٹھا کر عدالت کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان درخواستوں سے متعلق فیصلہ دے جبکہ عدالت اس معاملے میں بڑی احتیاط سے کام لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ اُن پر فیصلے نہیں دیئے جاتے اور وفاق کو بھی اس حساس معاملے کو سمجھنا چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے کی عدالتی کارروائی جاری رکھی گئی تو بہت سے پنڈورا باکس کُھل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان لاپتہ افراد کا سراغ لگانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس ضمن میں اپنی کوششیں تیز کریں۔

عدالت نے پنجاب صوبے کے سابق ہوم سیکرٹری کے علاوہ راولپنڈی کے کمشنر اور سٹی چیف پولیس افسر سے بھی جواب طلب کرلیا ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت تیرہ دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب پولیس کے ادارے سپیشل برانچ نے عدالت میں جو رپورٹ جمع کروائی ہے اُس کے مطابق ان افراد کو 29 مئی کو جیل سے رہائی کے بعد خفیہ اداروں کے اہلکار اغوا کرکے لےگئے تھے۔

ان افراد کو سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے طیارے پر حملہ،حمزہ کیمپ کے باہر ہونے والے خودکش حملے اور کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کی بس پر ہونے والے خودکش حملوں کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم روالپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا تھا۔

اسی بارے میں