توہین رسالت مقدمہ، طالبان کی دھمکی

Image caption گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کے دوران ان سے معافی کی درخواست لے لی تھی

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے دھمکی دی ہے کہ اگر توہین رسالت کی مبینہ مرتکب مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے معاملے میں بیرونی دباؤ قبول کیا گیا تو ایسے فیصلے کی بھر پور انداز میں مزاحمت کی جائیگی۔

پنجاب کے ضلع ننکانہ میں ایک عدالت نے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت قانون کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔ آسیہ بی بی نے اس سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا لیکن گورنر پنجاب نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی تھی اور ان سے معافی کی درخواست لے کر صدر مملکت سے انہیں معافی دلانے کا وعدہ کیا تھا۔

آسیہ بی بی کی معافی کا امکان

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے بھی پاکستان سے آسیہ بی بی کی رہائی کی اپیل کی تھی۔ پوپ بینیڈکٹ نے اپنے ہفتے وار خطاب میں پاکستان سے کہا تھا کہ پاکستان میں عیسائی برادری کو اکثر تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے کمانڈر مولوی فقیر محمد نے جمعرات کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے بتایا کہ اگر آسیہ بی بی کے معاملے میں بیرونی دباؤ قبول کیا گیا تو ایسے فیصلے کی مزاحمت کی جائے گی۔

طالبان کمانڈر مولوی فقیر نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ملک ہے جس کی اپنی مذہبی حدود ہیں اور جس سے کسی بھی صورت روگردانی نہیں کرنی چاہیے۔

Image caption گورنر سلمان تاثیر کے خاندان نے جیل میں آسیہ سے ملاقات کی تھی

انہوں نے مزید بتایا کہ مسیحی عورت کے حوالے سے عدالت سے جو فیصلہ ہوا ہے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ مولوی فقیر محمد کے مطابق پاکستان پہلے ہی سے اندرونی خلفشار اور مسائل کا شکار ہے اور ایسے میں توہین رسالت کی مرتکب خاتون کو سزا نہ دے کر ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔

طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ اگر آسیہ بی بی کے معاملے میں بیرونی دباؤ قبول کیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور طالبان بھی ایسے کسی فیصلے کی بھرپور انداز میں مزاحمت کرینگے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ مزاحمت کس قسم کی ہوگی۔

خیال رہے کہ مولوی فقیر محمد نے کافی عرصہ کے بعد ذرائع ابلاغ کے کسی ادارے سے رابطہ کیا ہے۔

اسی بارے میں