سیاسی جماعتوں کے پلٹے کہ عقل دنگ رہ جائے

پاکستان میں ’عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے‘ کا محاورہ سیاستدانوں کی زبانی کئی دہائیوں سے سننے کو ملتا رہا ہے لیکن اس کا عملی اور واضح نمونہ جمعہ کو پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب جنرل سیلز ٹیکس اور فنانس بلوں کے متعلق سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوانے کے بارے میں تحاریک پر ووٹنگ ہوئی۔

حکومت کے مجوزہ دونوں بلوں کا مقصد اور خوبیاں ’امپورٹڈ فنانس منسٹر‘ عبدالحفیظ شیخ یہ بتاتے رہے کہ اس سے ٹیکس نہ دینے والے تاجروں اور صنعتکاروں کو ٹیکس کے جال میں لانا اور ملکی سطح پر مالی وسائل میں اضافہ کرنا ہے۔ لیکن اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے علاوہ حکومت کی تین اتحادی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) نے اس پر ایک ہفتے سے اودھم مچائے رکھا کہ اس سے عوام پر مہنگائی کا بم گرے گا اور حکومت عوام دشمن اقدامات سے باز رہے۔

حکومت کی اتحادی اور حزب مخالف کی جماعتیں جس طرح جی ایس ٹی کی مخالفت کرتے رہے اس سے تو یقین ہوگیا تھا کہ حکومت کبھی سینیٹ سے منظور نہیں کرواسکے گی لیکن عوام کی وکالت کرنے والے رہنماؤں نے لمحہ بہ لمحہ ایسے پلٹے کھائے کہ عقل دنگ رہ گئی۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی اور مولانا شیرانی کو اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین لگایا گیا تو انہوں نے بیان دیا کہ وہ جی ایس ٹی کی حمایت کریں گے۔ جب حکومت نے نوٹیفکیشن میں ان کی مدت ملازمت طے نہیں کی تو پھر ان کے رہنماؤں کے بیان آئے کہ وہ عوام دشمن جی ایس ٹی کی حمایت نہیں کریں گے۔ حکومت نے پھر مولانا شیرانی کی مدت ملازمت فرمائش کے تحت تین سال کردی تو انہوں نے بڑی ہوشیاری سے ‘فرینڈلی’ کردار ادا کیا۔

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کی جب صدر آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی تو ان کے تحفظات بھی ختم ہوگئے۔

ایک اور حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو منانے رحمٰن ملک اور حفیظ شیخ کراچی گئے تو انہوں نے عوام دشمن جی ایس ٹی کی مخالفت اس شرط پر ختم کرنے کا یقین دلایا کہ کراچی میں منشیات اور اسلحہ مافیا کے نام پر اے این پی کے خلاف کارروائی کریں۔

حکومت نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کراچی میں کارروائی کرکے بیسیوں لوگوں کو گرفتار کرلیا اور ایم کیو ایم راضی ہوگئی۔ لیکن پھر اے این پی نے جی ایس ٹی کو عوام دشمن قرار دے کر مخالفت کا اعلان کیا۔ سنیچر کی صبح سینیٹ کی کارروائی سے پہلے گرفتار ’مافیا‘ کے لوگ رہا ہوگئے تو اے این پی نے کہا کہ ان کے عوام دشمن تحفظات ختم ہوگئے ہیں۔ لیکن ایم کیو ایم نے پھر سے عوام دشمن جی ایس ٹی کی مخالفت کا رونا رونا شروع کردیا۔

اگر حکومتی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اور جے یو آئی وائس ووٹ کے بجائے گنتی کا مطالبہ کرتیں تو بھی حکومت کی سُبکی ہوتی۔ لیکن انہوں نے صرف اضافی ٹیکس سے عوام پر بوجھ کے محض شور مچانے کو ہی ترجیح دی۔

سینیٹ میں جمعہ کی نماز کے وقفے میں ایک وفاقی وزیر سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنی ایک اتحادی جماعت کے بارے میں بتایا کہ کراچی کے جوڑیا بازار کے ہول سیل تاجروں نے ان کی ’مہنگی‘ خدمات حاصل کیں اور یہاں مختلف لابیاں سرگرم ہوگئی ہیں۔

مسلم لیگ (ق) نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے عوام مر جائے گی۔ لیکن جب ووٹنگ شروع ہوئی تو وہ پہلے سے حکومت کے ساتھ طے شدہ پروگرام کے تحت واک آؤٹ کر گئے۔ انہوں نے واک آؤٹ کرکے حکومت کو ‘واک اوور’ دیا کیونکہ اگر وہ ووٹنگ میں حصہ لیتے تو حکومت کبھی یہ تحاریک منظور نہیں کرواسکتی تھی۔

مسلم لیگ (ن) نے بھی عوام کا بڑا رونا رویا لیکن سینیٹ کی خزانے کے متعلق قائمہ کمیٹی میں پندرہ سفارشات اتفاق رائے سے کرنے والی رپورٹ پر دستخط کردیے اور ایوان میں اس کی مخالفت میں ووٹ بھی دیا۔ اسحاق ڈار اقتصادی ماہر ہیں اور انہیں ان اقدامات کا ادراک ہے کہ گالی تو پیپلز پارٹی کو پڑے گی لیکن کل کلاں ان کی جماعت جب آئے گی تو یہ اقدامات ان کے لیے احسن ثابت ہوں گے۔

سیاسی جماعتوں نے جس طرح عوام کی آڑ میں جی ایس ٹی کا رونا رویا وہ ایسا کمال ہے کہ انہیں اس پر ’کمالِ فن ایوارڈ‘ ملنا چاہیے۔

حکومت کی اتحادی جماعتیں ہوں یا حزب مخالف کی پارٹیاں، ان کا اصل ٹیسٹ کیس دسمبر کے پہلے عشرے میں قومی اسمبلی سے جی ایس ٹی اور فنانس بل میں ترامیم کی منظوری کے وقت ہوگا اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس وقت عوام کے لیے مگر مچھ کے آنسو بہانے کے لیے رودالی کا نیا روپ کیا دھارتی ہیں۔

اسی بارے میں