سینیٹ نے سفارشات منظور کر لیں

پاکستان سینیٹ فائل فوٹو

پاکستان کے ایوانِ بالاسینیٹ نے جمعہ کو اکثریتِ رائے سے وہ تحریک منظور کرلی ہے جس میں ایوانِ زیریں قومی اسمبلی سے سفارش کی گئی ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس اور فنانس بل میں ترامیم کے متعلق دو بل منظور کیے جائیں۔

جنرل سیلز ٹیکس بل سنہ دو ہزار دس کا مقصد ٹیکس کا ڈھانچہ وسیع کرنا، ٹیکس نہ دینے والے شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانا اور معیشت کی دستاویزبندی کرنا ہے۔ جبکہ حکومت کے مطابق فنانس بل میں ترمیم کا مقصد قابلِ ادا انکم ٹیکس پر دس فیصد سرچارج لاگو کرنا اور سپیشل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنا بتایا گیا ہے۔

جنرل سیلز ٹیکس اور فنانس بل میں ترامیم کا معاملہ گزشتہ ایک ہفتے سے ملک بھر میں بحث کا موضع رہا اور اس پر جہاں حزبِ مخالف کی جماعتوں نے مخالفت کی وہاں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں بھی کھل کر ناراضگی ظاہر کرتی رہیں۔

لیکن جمعہ کو جب ان دونوں بلوں کے متعلق سینیٹ کی سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوانے کے بارے میں تحاریک پر ووٹنگ ہوئی تو مسلم لیگ (ق) نے واک آؤٹ کیا، مسلم لیگ (ن) نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ حکومتی اتحاد کی دو جماعتوں جمیعت علماء اسلام (ف) اور متحدہ قومی موومنٹ کےاراکین نے ایوان میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے’نو جی ایس ٹی۔۔ نو جی ایس ٹی‘ کے نعرے تو لگائے لیکن ’وائس ووٹنگ‘ کے دوران مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق جمعہ کو سینیٹ میں ایک موقع پر حکمران پیپلز پارٹی اور اُس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین کے درمیان ایوان کے اندر سخت تلخ کلامی ہوئی جس کے بعدایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ جب جہاز رانی کے وزیر بابر غوری نے بل کی مخالفت کی تو پیپلز پارٹی کے صابر بلوچ نے کہا کہ وزیر کو ایوان میں مخالفت کا حق نہیں ہے اور انہیں اگر کابینہ کا فیصلہ قبول نہیں تو وہ مستعفی ہوجائیں۔

جس پر ایم کیو ایم کے تمام اراکین کھڑے ہوکر شور شرابہ کرتے رہے۔ بابر غوری نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی چاہے تو اُن کی وزارت کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دے۔ اس دوران عوامی نیشنل پارٹی کے عبدالنبی بنگش نے بھی ایم کیو ایم پر سخت تنقید کی اور ان کی بھی ان سے تلخی ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہوتے ہوئے مزے بھی لوٹتی ہے اور مخالفت بھی کرتی ہے۔

واضع رہے کہ جمعرات کو جب سینیٹ کی خزانے کے متعلق قائمہ کمیٹی نے اتفاقِ رائے سے پندرہ سفارشات منظور کرکے اپنی رپورٹ سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی تھی تو بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت اور حزبِ مخالف میں اتفاقِ رائے ہوگیا ہے۔لیکن آج جب ایوان میں وہ سفارشات قومی اسمبلی کو بھیجنے کے لیے تحاریک پیش ہوئیں تو فریقین میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے، جو حکومتی اتحاد میں شامل ہے، بھی حکومت کے مجوزہ بلوں کی مخالفت کا اعلان کیا تھا لیکن اے این پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے خدشات دور ہوگئے ہیں۔

ان کے بقول جان بچانے والی ادویات، کھانے پینے کی چیزوں، پولٹری اور تعلیم سے متعلق اشیاء پر ٹیکس نافذ نہ کرنے کے مطالبات مان لیےگئے ہیں۔

اس سے پہلے ’جی ایس ٹی‘ کے متعلق ایوان میں بحث کے دوران حزبِ مخالف اور حکومت کی حلیف جماعتوں کے اراکین نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ غریبوں کے بجائے امیروں پر ٹیکس عائد کرے اور ’آر جی ایس ٹی کے بجائے‘ زرعی آمدن اور دولت پر ٹیکس لاگو کیا جائے۔

اراکین نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں ’لیکیجز‘ ختم کرے، نقصان میں چلنے والی ریاستی کارپوریشنز کا سالانہ خسارہ کم کرے اور دفاع سمیت مختلف اخراجات کم کرے تو ایسا کرنے سے پانچ سو ارب روپے سے زیادہ آمدن بڑھائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ آئین کے مطابق ’منی بل‘ کے بارے میں پارلیمان کا ایوانِ بالا سینیٹ صرف سفارشات پیش کرسکتا ہے جبکہ منظوری کا اختیار قومی اسمبلی کے پاس ہے۔

جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ سینیٹ سے منظور کردہ سفارشات اب دسمبر کے پہلے عشرے میں منعقد کیے جانے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش ہوں گی اور حکومت کو انہیں اکتیس دسمبر سے پہلے منظور کرانا ہے کیونکہ جی ایس ٹی اور فنانس بل کے ذریعے ٹیکس میں جو ردو بدل کی گئی ہے اس کا اطلاق یکم جنوری سنہ دو ہزار گیارہ سے ہونا ہے۔

اسی بارے میں