جرگہ:شدت پسندوں کو سزا ملنی چاہیے

Image caption سوات اور صوبہ سرحد کے دوسرے شہروں میں قومی معاملات پر غور و فکر کے لیے جرگے کرنے کی روایت ہے

سوات میں قومی جرگے نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک نفاذ شریعت محدی کے سربراہ صوفی محمد اور ان کے ساتھیوں کو قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں جبکہ مولانا فضل اللہ سمیت فرار شدت پسندوں کی گرفتار کرکے اُن کے خلاف موثر کارروائی کی جائے۔

قومی جرگہ اتوار کو سوات میں منعقد ہوا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنما اور مختلف قبائل کے علاوہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جرگے کے بعد سیاسی رہنما مختار یوسف زئی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جرگے نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے اس وقت سوات میں امن فوج کی وجہ سے ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیس اور فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کو بااختیار بنائے تاکہ علاقے میں دائمی امن قائم ہوسکے۔

انھوں نے کہا کہ جرگے کا مطالبہ ہے کہ اس وقت زیر حراست تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد اور طالبان رہنما مسلم خان سمیت دیگر کو قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں جبکہ فرار طالبان رہنما مولانا فضل اللہ سمیت دیگر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان ک کہنا ہے کہ مختار یوسف زئی نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے وجہ سے سوات کا امن تباہ ہوا، تعلیمی ادارے نہ رہے اور لوگوں کا کاروبار تحس نحس ہوگیا اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ اس جنگ میں بڑی تعداد میں بے گناہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ بیشتر کے مکان اور کاروبار تباہ ہو گئے ہیں، انھیں انصاف دلانے کے لیے ذمہ داروں کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔

جرگے نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو بیرونی امداد موصول ہو رہی ہے وہ پوری متاثرہ علاقوں کو ملنی چاہیے۔ جرگے کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سیاحت تباہ ہو گئی ہے اس کی بحالی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

جرگے نے کہا ہے کہ سوات اور دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں سکول تباہ ہو گئے ہیں جہاں تعلیمی سلسلہ اب تک بحال نہیں ہوسکا ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ان سکولوں کو مرمت کرکے یہاں جلد از جلد تعلیمی سرگرمیاں شروع کیا جائیں۔

اسی بارے میں