’آسیہ کی اپیل پر کارروائی نہ کریں‘

Image caption گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کے دوران ان سے معافی کی درخواست لے لی تھی

لاہور ہائیکورٹ نے صدرِ پاکستان کو توہینِ رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رحم کی اپیل پر کارروائی سے روک دیا ہے اور اس ضمن میں دائر کی جانے والی ایک پر درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے یہ حکم مقامی وکیل کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست پر دیا جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی خاتون کی رحم کی اپیل پر کوئی کارروائی نہ کرے ۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چھ دسمبر کے لیے نوٹس جاری کردئیے اور ہدایت کی کہ جب تک اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک مسیحی خاتون نے اپنی سزا معافی کے لیے جو رحم کی اپیل دائر کی ہے اس پر کارروائی نہ کی جائے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ کی عدالت نے آسیہ بی بی نامی ایک عیسائی خاتون کو توہین رسالت کے جرم میں موت اور جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں کسی غیر مسلم خاتون کو توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے ۔

آسیہ بی بی نے اس سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے جس میں ماتحت عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے جبکہ گورنر پنجاب کے ذریعے مسیحی خاتون نے رحم کی اپیل بھی صدر کو ارسال کی ہے۔ پاکستان کا آئین صدر مملکت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی مجرم کی رحم کی اپیل پر اس کو دی جانے والی سزا معاف کرسکتے ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ درخواست گزار چودھری شاہد اقبال کے وکیل اللہ بخش لغاری نے دلائل میں کہا کہ ضلع ننکانہ کی عدالت نے مقدمہ کی تمام شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام میں سزا سنائی تھی لیکن گونر پنجاب سلمان تاثیر نے مسیحی خاتون سے جیل میں جاکر ملاقات کی اور یہ بیان دیا کہ آسیہ بی بی بے گناہ ہے ۔

وکیل نے بتایا کہ گورنر پنجاب نے مسیحی خاتون سے سزا کے خلاف رحم کی اپیل پر دستخط کرائے اور ان کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کی رحم کی اپیل منظور کر لی جائے۔ وکیل نے استدعا کی کہ جب تک عدالت آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر کارروائی مکمل نہیں کر لیتی اس وقت تک وفاقی حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ گورنر پنجاب کے ایماء پر مسیحی خاتون کی سزا معافی کے لیے رحم کی اپیل پر کارروائی نہ کرے۔

وکیل نے یہ بھی استدعا کی کہ آسیہ بی بی کی طرف سے سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف اس معاملے پر تشکیل دی جانے والی تحقیقاتی کمیٹیوں کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے بھی پاکستان سے آسیہ بی بی کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ پوپ بینیڈکٹ نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان میں عیسائی برادری کو اکثر تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر توہین رسالت کی مبینہ مرتکب مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے معاملے میں بیرونی دباؤ قبول کیا گیا تو ایسے فیصلے کی بھر پور انداز میں مزاحمت کی جائےگی۔

اسی بارے میں