’لڑکے نے اسلام قبول کر لیا‘

جوڑی
Image caption بلدیہ ٹاؤن میں ایک اندازے کے مطابق تین ہزار کے قریب مسیحی آبادی ہے

پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں مسلم لڑکی کے ساتھ گھر چھوڑنے والے عیسائی نوجوان نے اسلام قبول کرلیا ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی کم ہوگئی ہے۔

بلدیہ ٹاؤن پولیس کے تفتیشی افسر بلال رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکے نے فیصل آباد کے ایک مدرسے میں اسلام قبول کیا ہے، جس کی سند اور لڑکی سے نکاح کا بیان انہیں موصول ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لڑکی کے بیان اور ذوہیب کے مسلمان ہونے کی سند کی تصدیق کے لیے انہوں نے مدرسے اور وکیل کو خط لکھ دیا ہے جو کوریئر کے ذریعے روانہ کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب تک ذوہیب کے مسلمان ہونے اور نکاح کرنے کی تصدیق نہیں ہوگی، مقدمہ ختم نہیں ہوگا، اس سلسلے میں لڑکی انعم کا مجسٹریٹ کے روبرو بیان قلمبند کرانا بھی لازمی ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن کے مقامی رضاکار ڈاکٹر مقبول نے بتایا کہ لڑکے کے اسلام قبول کرنے کے بعد علاقے میں کشیدگی ختم ہوگئی مگر لڑکے کے والدین اپنے گھر کو واپس نہیں لوٹے ہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق دس روز قبل بلدیہ ٹاؤن کے علاقے غوث نگر کی رہائشی مسمات انعم اور ذوہیب عرف نومی گھر سے نکل گئے، لڑکی کے والدین کا الزام تھا کہ ان کی بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے تاہم اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی سلیم خورشید کھوکھر کا کہنا ہے کہ یہ محبت کا معاملہ ہے۔

غوث نگر میں ذوہیب کے والد مزدوری کرتے تھے، جبکہ لڑکی کی والدہ علاقے میں بیوٹی پارلر چلاتی ہیں۔ اس علاقے میں ایک اندازے کے مطابق تین ہزار کے قریب مسیحی آبادی ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور چرچ پر پتھراؤ کیا گیا، اس صورتحال میں مقامی سکول بھی بند رہا جس کے بعد انتظامیہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔

اسی بارے میں