وائس چانسلر کے اغواء کے خلاف جاری ہڑتال ختم

Image caption وائس چانسلر اجمل خان کو تقریباً ڈھائی ماہ قبل پشاور یونیورسٹی کی حدود سے اغواء کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی تمام جامعات میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے اغواء کے خلاف جاری ہڑتال ختم ہونے کے بعد تدریسی عمل شروع ہو گیا ہے۔

تاہم اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر اطمینان بخش جواب کے باوجود انھوں نے تدریسی عمل شروع کرنے کا فیصلہ طلبا و طالبات کے بہتر مفاد میں کیا ہے۔

پشاور یونیورسیٹی، اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور دیگر جامعات میں کوئی تین ہفتوں کے احتجاج کے بعد پیر سے اساتذہ نے تدریسی عمل شروع کر دیا ہے لیکن اساتذہ کے بازوؤں پر کالی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہ کالی پٹیاں اس لیے باندھی گئی ہیں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وائس چانسلر اجمل خان کو بازیاب نہیں کروایا جاتا ہے۔

پیر کو صوبے کی تمام جامعات میں طلبا اور طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی اور بیشتر طالب علم اپنے امتحانات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہے۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی اساتذہ تنظیم کے صدر پروفیسر ضیاءاللہ صحرائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وائس چانسلرز کی جانب سے یونیورسٹیز کھولنے کے اعلان کے باوجود انھوں نے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں گورنر خیبر پختونخوا اویس احمد غنی کی اس یقین دہانی پر کہ حکومت مغوی وائس چانسلر اجمل خان کی بازیابی کے لیے بھر پور کوششیں کر رہی ہے انھوں نے تدریسی عمل تو شروع کر دیا ہے لیکن ان کا احتجاج اب بھی جاری ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ پروفیسر ضیاءاللہ صحرائی کے مطابق وہ گورنر اویس احمد غنی کے اس جواب سے زیادہ مطمئن نہیں ہوئے لیکن دوسری جانب انھیں طلباء اور طالبات کے والدین کی جانب سے ٹیلیفون کالز موصول ہو رہی تھیں کہ ان کے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اس لیے انھوں نے طالب علموں کے قیمتی وقت کا احساس کرتے ہوئے پیر سے کلاسیں لینا شروع کر دی ہیں۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کو سات ستمبر کو نا معلوم افراد نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب یونیورسٹی کیمپس کے علاقے میں وہ اپنے مکان سے دفتر جا رہے تھے۔ اس کے بعد تحریک طالبان نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی اور اس دوران ان کے دو ویڈیو پیغامات جاری کیے گئے جن میں اجمل خان کو پیغام پڑھتے دکھایا گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ مسلح نقاب پوش افراد کھڑے تھے۔

آخری ویڈیو پیغام میں انھوں نے حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے بیس نومبر کی تاریخ بھی دی تھی لیکن بعض اطلاعات کے مطابق اس تاریخ میں غیر معینہ مدت تک کے لیے توسیع کر دی گئی تھی۔

پروفیسر ضیا ءاللہ صحرائی کے مطابق اجمل خان کی عدم بازیابی کی وجہ سے اساتذہ میں تشویش اور خوف پایا جاتا ہے اور اگر ایک دو ہفتوں تک اجمل خان کو بازیاب نہیں کرایا جاتا تو وہ پھر اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

اسی بارے میں