’سری لنکن ٹیم پر حملے کا ملزم گرفتار‘

حملہ آوروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج، فائل فوٹو
Image caption شدت پسندوں کے حملے میں سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی اور چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی پولیس نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والے ایک اہم ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے شخص کا نام قاری عبدالوہاب عرف عمر وہاب ہے۔

سی آئی اے پولیس لاہور کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ سے حراست میں لیا گیا اور گرفتار کیے جانے والا مبینہ ملزم سری لنکن ٹیم پر حملے میں ملوث تھا۔

سی آئی اے پولیس کے ایس پی عمر ورک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے ایک ملزم کو حراست میں لیا گیا اور بقول ان کے ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم لشکری جھنگوی سے ہے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ پولیس کے مطابق ملزم کو حراست میں لے کر اس سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے اور امکان ہے کہ تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔

پولیس کے بقول سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملہ میں سات ملزمان ملوث تھے جن میں سے دو ملزمان کو لاہور سے ہی حراست میں لیا گیا۔

واضح رہے کہ تین مارچ سال دو ہزار نو کو لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے کچھ ہی فاصلے پر لبرٹی چوک میں اس بس پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا جو سری لنکن ٹیم کے ارکان کو سٹیڈیم لے کر جا رہی تھی۔ اس واقعہ میں سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی اور چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ سری لنکن ٹیم پر حملہ تین ماہ بعد لاہور پولیس نے بھی ایک ملزم زبیر عرف ندیم کو گرفتار کیا تھا اور پولیس کے بقول حراست میں لیا گیا مبینہ ملزم سری لنکن ٹیم حملہ میں ملوث تھا اور اس کا تعلق پنجابی طالبان سے بتایا گیا تھا۔

لاہور پولیس کے مطابق سری لنکن ٹیم پر حملے کا ماسٹر مائنڈ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان عرف رانا حنیف تھا اور اس حملے کا مقصد کرکٹ ٹیم کو اغوا کرنا تھا۔

اسی بارے میں