’نواز شریف خطرناک، زرداری بدعنوان‘

وکی لیکس تقریباً ڈھائی لاکھ امریکہ کی خفیہ سفارتی دستاویزات کو منظرِ عام پر لایا ہے جن میں سے زیادہ تر پچھلے تین سال کے عرصے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان خفیہ سفارتی دستاویزات میں سے کچھ دستاویزات رواں سال فروری کی بھی ہیں۔

ان دستاویزات میں سے ایک میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی پر طنز کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

رواں سال گیارہ فروری کی ایک دستاویز کے مطابق سعودی شاہ عبداللہ کا ماننا ہے کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کارروائی میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔ دستاویز کے مطابق سعودی فرمانروا نے صدر زرداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر سر ہی گلا سڑا ہو تو اس کا اثر سارے جسم پر پڑتا ہے‘۔

شاہ عبداللہ نے جنرل جونز سے کہا کہ امریکی ترقیاتی مدد سے پاک فوج کا اعتماد حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج بجائے اس کے کہ وہ کام کرے جو اسے’کرنا چاہیے‘ پاکستان کی سیاست سے امریکہ کی خاطر علیحدہ ہے۔

اسی طرح شاہ عبداللہ کے بارے میں ایک اور پیغام میں کہا گیا ہے کہ جب شاہ عبداللہ اپنے ہم منصب پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں جیسا کہ نوری المالکی اور آصف زرداری کے معاملے میں ہوا ہے تو ان کی ذاتی ناپسندیدگی دو طرفہ تعلقات میں اہم رکاوٹ بن جاتی ہے۔

اسی طرح تئیس جولائی دو ہزار نو کے ایک دستاویز میں ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بن زید کا کہنا ہے ’زرداری بدعنوان ہے لیکن خطرناک نہیں۔ اس کے مقابلے میں نواز شریف خطرناک ہے بدعنوان نہیں۔یہ پاکستان کی سیاست ہے۔ نواز شریف پر وعدہ نبھانے کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا‘۔

اس دستاویز کے مطابق ولی عہد نے کہا کہ ایک نئی شخصیت پاکستان میں سامنے آ سکتی ہے لیکن اس وقت تک متحدہ عرب امارات وزیراعظم کی حمایت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب ایک دستاویز میں پاکستان ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے سنہ دو ہزار سات سے پاکستان کا افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لینے کا ایک خفیہ منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوا ہے۔ امریکی حکام کو ڈر ہے کہ یہ افزودہ یورینیم غلط ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔

سنہ دو ہزار نو مئی میں اس وقت کی امریکی سفارتکار این ڈبلیو پیٹرسن نے ایک خفیہ دستاویز میں کہا پاکستان امریکی ماہرین کو پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ایک سرکاری افسر نے کہا ’اگر پاکستانی میڈیا کو پتہ چل گیا کہ یورینیم قبضے میں لے لیا گیا ہے تو وہ اس عمل کو اس بات کے مترادف سمجھیں گے کہ امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار قبضے میں لے لیے ہیں‘۔

ان دستاویزات کے مطابق اوباما انتظامیہ ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکی کہ کون سے پاکستانیوں پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور کون سے عناصر پر نہیں۔

اس پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر گھومنے والے رکشہ ڈرائیور کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ اپنے کرائے کا انتظار کر رہا ہے یا قونصل خانے کی طرف جانے والی سڑک کی نگرانی کر رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں