ذوالقرنین: گھر والوں کو دھمکیاں

پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر کے گھر والوں کو دھمکی آمیز ٹیلی فون کالز موصول ہونے پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

یہ مقدمہ لاہور کے علاقے لیاقت آباد کے پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا اور اس مقدمہ کے مدعی ذوالقرنین حیدر کے بھائی عقیل حیدر ہے۔ مقدمہ میں ٹیلی گراف ایکٹ سمیت دیگر فوجداری دفعات کو شامل کیا گیا ہے ۔

مقامی میڈیا کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے اپنی فیس بک پر یہ پیغام لکھا ہے کہ وہ پانچ روز میں بک میکرز سے رقم لینے والوں کے نام بتائیں گے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ کرکٹر ذوالقرنین حیدر کے گھر والوں کو اتوار کے روز ٹیلی فون پر دھمکیاں دی گئیں جس کے بعد ذوالقرنین کے بھائی نے مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔

عیقل حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ ذوالقرنین حیدر کی اہلیہ کے فون پر اتوار کی شام پونے چھ بجے کے قریب تین نامعلوم دھمکی آمیز ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں جو بقول ان کے بیرون ملک سے کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ فون کال کرنے والے نامعلوم شخص نے بتایا کہ وہ یونان سے فون کررہا ہے اور اس کا کہنا تھا کہ ذوالقرنین ان کے رسائی میں ہے اور اگر ذوالقرنین نے کوئی انکشافات کیے تو ذوالقرنین کے گھر والوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عقیل حیدر کے بقول فون کرنے والا اردو میں بات کررہا تھا اور اس کا لہجہ پاکستانی معلوم ہوتا تھا۔

انہوں نے بتایاکہ پہلی دو فون کالز پر فون پر نمبر نہیں آیا لیکن جس وقت تیسری کال موصول ہوئی تو اس پر ایک نمبر فون کی سکرین پر آیا جو پولیس کو دے دیا گیا ہے۔

عقیل حیدر نے بتایا کہ دھمکی آمیز فون کالز کے بعد ان کا اپنے بھائی ذوالقرنین سے رابطہ ہوا ہے اور انہوں نے یہ ہدایت کی کہ فون کالز کے بارے میں متعلقہ حکام کو بتادیا جائے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ حکومت کی سطح پر ابھی ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

ادھر ذوالقرنین حیدر کی لاہور میں رہائش گاہ پر حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں اور پولیس کے اہلکاروں ان کے گھر کے باہر متعین کیے گئے ۔ عقیل حیدر کا کہنا ہے وہ اپنے گھر پر کیے جانے والے اقدامات سے مطمن ہیں۔

خیال رہے ذوالقرنین حیدر مبینہ طور پر ایک شخص کی جانب سے میچ فکسنگ پر مجبور کرنے کی دھمکی کے بعد اچانک دبئی میں ٹیم کو چھوڑ کر لندن جا پہنچے تھے جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں