پیپلز پارٹی کے44 سال

ذوالفقار علی بھٹو
Image caption ذوالفقار علی بھٹو نے انیس سو سڑسٹھ میں پارٹی کی سنگِ بنیاد رکھی

تیس نومبر کو پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا چوالیس واں یوم تاسیس منایا اور ملک کے مختلف شہروں میں تقریبات منعقد کیں لیکن اس موقع پر پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو اور شریک چیئرپرسن اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کسی تقریب میں نظر نہیں آئے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صوبہ خیبر پختونخوا اور شام کو صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں پارٹی کی تقریبات میں شرکت کی۔ پیپلز پارٹی نےگزشتہ چوالیس برسوں کے دوران بڑے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور ان میں سے تیس برس تو اس نے حزب مخالف کا کردار ادا کیا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ’اسلام ہمارا مذہب، سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست، اور طاقت کا سرچشمہ عوام‘ کا منشور لے کر تیس نومبر سنہ انیس سو سڑسٹھ کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی بناکر ‘روٹی کپڑا اور مکان’ کا نعرہ لگایا تھا۔

Image caption بینظیر بھٹو کے سیاست میں آنے کے وقت کہا گیا کہ وہ پارٹی کا بوجھ نہیں اٹھا پائیں گی

ان کے دورِ اقتدار میں پاکستان کا آئین بنایا گیا، جوہری پروگرام شروع ہوا، سٹیل ملز اور ہیوی مکینیکل کمپلیکس جیسی صنعتیں لگیں، مزدوروں کے حقوق کے لیے قانون سازی سمیت متعدد ترقیاتی کام کیے گئے۔ اس کے برعکس ان کے دورِ اقتدار ہی میں بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا، نیپ کی حکومتیں ختم ہوئیں، مفتی محمود اور خان عبدالولی خان سمیت بھٹو کے کئی مخالفین کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ان اقدامات کی وجہ سے بھٹو ایک متنازعہ شخصیت بھی بنے۔ لیکن آج بھی ان کے مخالفین مانتے ہیں کہ جتنے کام انہوں نے پانچ برسوں میں کیے اِتنے کام ان کے بعد آنے والے فوجی یا سیاسی لیڈر دس برسوں میں بھی نہیں کر پائے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو انیس سو ستتر میں مارشل لا لگا کر ہٹانے کے بعد جتنا عرصہ فوجی حکمران اقتدار پر قابض رہے اتنا عرصہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار نہیں ملا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران ان کے والد کے متعدد قریبی رفقاء ان کا ساتھ چھوڑ گئے جن میں غلام مصطفیٰ جتوئی، ممتاز بھٹو، غلام مصطفیٰ کھر، ڈاکٹر مبشر حسن، ڈاکٹر غلام حسین، عبدالحفیظ پیرزادہ وغیرہ شامل ہیں۔

تاہم ضیاءالحق کے فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد ریاستی سرپرستی میں اسلامی جمہوری اتحاد بنا کر ان کا راستہ روکنے کی کوششیں بری طرح ناکام ہوئی اور پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے جیت گئی اور بینظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ لیکن ان کی حکومت کو مدت مکمل نہیں کرنے دی گئی۔ انیس سو ترانوے کے انتخابات میں ایک بار پھر ان کی جماعت اکثریت سے جیتی اور وہ دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئی۔ ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو انہیں راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں قتل کر دیا گیا۔

ایسے میں پارٹی کی قیادت ان کے شوہر آصف علی زرداری نے سنبھالی اور فروری سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالا تو ان سے بھی کئی لوگ ناراض ہوئے۔ ابتدا میں تو مخدوم امین فہیم ناخوش تھے لیکن بعد میں انہوں نے وزارت لے لی۔ میاں رضا ربانی سینیٹ چیئرمین نہ بنانے پر ناراض ہوئے لیکن آئین میں ترمیم، پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کی سربراہی سمیت اہم ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے۔ ججوں کی بحالی کے سوال پر اعتزاز احسن پارٹی قیادت سے دور ہوگئے لیکن بعد میں حکومت اور عدلیہ میں پل کا کردار بھی ادا کیا۔

Image caption آصف علی زرداری کی قیادت سے بہت سے لوگ خوش نہیں ہیں

لیکن بینظیر بھٹو کی سیاسی سیکریٹری ناہید خان اور ان کے شوہر صفدر عباسی پیپلز پارٹی کی نئی قیادت کا شکار بنے اور اب وہ ان کے سخت مخالف بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

ناہید خان اور صفدر عباسی کی ناراضگی کے بارے میں سندھ کے وزیرِ داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سیاسی نہیں بلکہ جائیداد کے معاملات ہیں۔ بقول ان کے کہ ناہید خان کو وہ جائیداد بینظیر کے بچوں کو دینی پڑے گی جو ان کے پاس ہے۔

جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ گورننس، مہنگائی، کرپشن، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل پر قابو نہیں پا سکے اور عوامی توقعات پر پوری نہیں اتری۔ لیکن پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ضمنی انتخاب میں ایسی نشستیں جیت رہی ہے جو بینظیر کے قتل کے بعد ہونے والے عام انتخاب میں بھی نہیں جیت سکی تھی۔ بقول خورشید شاہ کے ’سارے لوگ تو خدا سے بھی خوش نہیں ہوتے۔‘

اسی بارے میں