ٹیکس اصلاحات قانون کی مخالفت

فائل فوٹو/ پاک سینیٹ
Image caption ایوان زیریں سے بھی بل کے منظور ہونے کی توقع ہے

پاکستان کی حکومت نے ٹیکس اصلاحات کا ایک قانون جسے ’ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس‘ کا نام دیا گیا ہے، نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی جا رہی ہے۔

حالانکہ پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی خزانے سے متلعق قائمہ کمیٹی میں حکومت اور حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے پندرہ ترامیم پر اتفاق کیا تھا لیکن اگلے روز ہی حکومت کی حامی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے علاوہ حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے مخالفت کر دی۔

اس مخالفت کے باوجود بھی حکومت سینیٹ سے مجوزہ قانون سے متعلق سفارشات قومی اسمبلی کے لیے منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور اب ان کا اصل امتحان ایوان زیریں سے اس کی منظوری ہے۔

حزب مخالف اور حکومتی اتحاد کی اکثر جماعتوں نے قومی اسمبلی میں بل کی ڈٹ کر مخالفت کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت آسانی سے یہ بل منظور کرا لے گی۔

تین سو بیالیس اراکین والی قومی اسمبلی سے حکومت کو مجوزہ ٹیکس والے قانون کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار ہے۔ ضروری نہیں کہ تین سو بیالیس کے نصف سے زیادہ اراکین ووٹ دیں کیونکہ سادہ اکثریت کی شرط ایوان میں موجود اراکین کی گنی جاتی ہے۔

موجودہ اسمبلی کی پونے تین سال کی اوسط حاضری دیکھی جائے تو وہ کبھی ایک تہائی سے نہیں بڑھی اور اب بھی اگر ایسا ہی ہوا تو شاید حکومت یہ بل منظور کرا لے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے جہاں صوبوں سے بات چیت شروع کی ہے وہاں حکومت کی ناراض اتحادی اور حزب مخالف کی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

Image caption سینیٹ نے ٹیکس قوانین میں ترمیم کو منظوری دی تھی

قومی اسمبلی کی خزانے سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس بدھ سے شروع ہوگا جس میں چیمبر آف کامرس کے نمائندوں کو مدعو کر کے ان کے اعتراضات اور خدشات دور کرنے کی بھی کوشش ہوگی اور بقول وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کے دسمبر کے وسط تک وہ مجوزہ بل منظور کرا لیں گے۔

سترہ کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک پاکستان میں ماہرین کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ کاروباری حضرات ٹیکس نہیں دیتے اور جو دیتے ہیں وہ بھی ٹیکس نظام کی خرابیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واجب الادا ٹیکس سے بہت کم ادائگی کرتے ہیں۔

میاں نواز شریف نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں چنگی/ ناکہ ٹیکس ختم کرکے سیلز ٹیکس نافذ کیا اور کہا کہ اس سے ٹیکس کا ڈھانچہ وسیع ہوگا، معیشت کی دستاویز بندی ہوگی اور ٹیکس نہ دینے والے لاکھوں لوگوں کو ٹیکس کے جال میں لایا جائےگا۔

لیکن دو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں سیلز ٹیکس دینے والوں کی تعداد ساڑھے اسی ہزار سے زیادہ نہیں ہوسکی۔

پاکستان میں ٹیکس اصلاحات ابتدا سے ہی متنازعہ معاملہ رہا ہے اور کروڑوں روپوں کا کاروبار کرنے والے صدقہ خیرات تو دینے میں عار محسوس نہیں کرتے لیکن ٹیکس دینے سے گریزاں رہتے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ خود ہی ٹیکس نہیں دیتا یا بہت کم دیتا ہے۔

پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) انیس سو اٹھاسی سے لے کر اب تک باری باری اقتدار میں آتی رہی ہیں اور ان کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ جب پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار ہوتی ہے تو صنعتکاروں، سرمایہ کاروں اور کاروباریوں پر ٹیکس لگانے کی کوشش کرتی ہے اور زرعی شعبے کے لیے مراعات کی کوشش کرتی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں اس کے برعکس ہوتا رہا ہے۔ لیکن تاحال زرعی آمدن پر ٹیکس نہیں لگ سکا کیونکہ دونوں جماعتوں میں بڑے بڑے زمیندار موجود ہیں۔

جب فیصلہ ساز اداروں میں صنعتکار اور جاگیردار بیٹھے ہوں اور مختلف کاروباری لابیاں حکمرانوں کی جیبیں گرم کرتی ہوں تو کوئی بھلا کیوں ان پر ٹیکس لگائے گا اور ایسے میں عوام کی نمائندگی کے دعویدار چاہے وہ پیپلز پارٹی کے حکمران ہوں یا مسلم لیگ (ن) کے وہ تو عوام کی جیب پر ہی ہاتھ ڈالتے ہیں کیونکہ عوام کی داد فریاد سننے والے وہ خود ہی تو ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں