’بلوچ مزاحمت کار افغان پناہ میں‘

براہمداغ بگٹی
Image caption حامد کرزئی نے شوکت عزیز سے کہا کہ سارے بگٹی دہشتگرد نہیں

وکی لیکس کی جاری کردہ خفیہ دستاویزات کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے اعتراف کیا تھا کہ وہ افغانستان میں بلوچ مزاحمت کاروں کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔

چھبیس فروری دو ہزار دس کے ایک مراسلے کے مطابق افغانستان کی جانب سے بگٹی مزاحمت کاروں کو پناہ دیے جانے پر پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل کیانی اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا نہایت ناخوش ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کو بارہا درخواستیں کی گئی ہیں کہ براہمداغ بگٹی کو پاکستان کے حوالے کیا جائے لیکن افغانستان حکومت نے اس سے انکار کیا ہے۔

براہمداغ بگٹی پر الزام ہے کہ انہوں نے کوئٹہ سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو اغوا کیا۔ اس مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کراچی سے گرفتار کیے گئے طالبان رہنما ملا برادر کو افغانستان کے حوالے کیا جائے اور افغانستان براہمداغ بگٹی کو پاکستان کے حوالے کرے۔

لیکن مراسلے کے مطابق یہ ہونا مشکل ہے کیونکہ جن لوگوں نے ملا برادر کو حراست میں لیا ہے وہ یہ ہونے نہیں دیں گے۔ اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا ملا برادر کو حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

مراسلے کے مطابق اگرچہ براہمداغ بگٹی سیاسی سطح پر اہمیت کے حامل ہیں لیکن ملا برادر آئی ایس آئی اور دیگر اہم پاکستانی شخصیات کے بارے میں جو ’سچائی‘ جانتے ہیں وہ براہمداغ بگٹی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

اس سے قبل بیس جنوری دو ہزار سات کے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حامد کرزئی نے اس وقت کے پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات میں کہا کہ سارے بگٹی دہشت گرد نہیں ہیں اور اس لیے پاکستان کے حوالے نہیں کیے جا سکتے۔

مراسلے کے مطابق اس وقت کے امریکی نائب سیکرٹری رچرڈ باؤچر نے کرزئی سے کہا کہ پاکستان براہمداغ بگٹی کو مانگ رہا ہے جس پر کرزئی نے کہا کہ مزاحمت کرنے سے شخص دہشت گرد نہیں بن جاتا۔ حامد کرزئی نے یہ بھی کہا کہ اصل دہشت گرد ملا عمر اور اسامہ بن لادن ہیں اور پاکستان طالبان کی مدد کرنا بند کرے۔

باؤچر نے کہا کہ اس معاملے میں پہل کون کرے اور کیا افغانستان پہل کر کے براہمداغ بگٹی کو حراست میں لے سکتا ہے؟ جس پر کرزئی نے کہا کہ اگر بگٹی کو پاکستان کے حوالے کیا گیا تو بگٹی امریکہ پر الزام لگائے گا۔

باؤچر نے کہا کہ کیا کرزئی پاکستان کو یہ یقین دہانی کرا سکتے ہیں کہ افغانستان میں موجود بگٹی بلوچستان میں مزاحمت میں ملوث نہیں ہیں اور بھارت بھی اس میں ملوث نہیں ہے۔ اس پر کرزئی نے کہا کہ وہ یہ یقین دہانی دے سکتے ہیں لیکن پاکستان یقین نہیں کرے گا۔

اٹھارہ دسمبر دو ہزار نو کے ایک مراسلے میں براہمداغ بگٹی کو یورپ میں پناہ گزین کی حیثیت دینے کے حوالے سے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا نے کہا کہ اگرچہ اس بارے میں فیصلہ وزارت خارجہ کرے گی لیکن جنرل پاشا نے صاف الفاظ میں کہا کہ وہ اس کے حق میں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین نے اس بارے میں براہمداغ کی مدد کی تو پاکستان کا رویہ اس ادارے کی جانب تبدیل ہو جائے گا۔

اسی بارے میں