پانچ وزارتیں صوبوں کے حوالے

فائل فوٹو
Image caption وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے پریس کانفرنس میں وزراتیں مرحلہ وار صوبوں کو منتقل کرنے تفصیلات بتائیں

پاکستان کی وفاقی حکومت نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت پہلے مرحلے میں پانچ وفاقی وزارتیں صوبوں کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں دی گئی، جس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ، میاں رضا ربانی، اسحٰق ڈار، فاروق ستار اور دیگر نے مشترکہ بریفنگ میں بتایا کہ وزارتوں کی صوبوں کو منتقلی کے بارے میں جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مرکزی حکومت نے وفاقی وزارتیں صوبوں کو منتقل کی ہیں۔

پہلے مرحلے میں جو پانچ وزارتیں صوبوں کے حوالے کرنے کی منظوری دی گئی ہے ان میں بلدیات اور دیہی ترقی، بہبود آبادی، خصوصی امور، نوجوانوں کے امور اور زکواۃ اور عشر شامل ہیں۔ ان وزارتوں کی املاک اور قرضے بھی صوبوں کے ذمے ہوں گی اور رواں مالی سال کے لیے مختص بجٹ صوبوں کو منتقل ہو جائیگا۔

نیوز بریفنگ میں حکومت اور حزب مخالف کے نمائندوں نے پہلے مرحلے میں پانچ وزارتوں کی وفاق سے صوبوں کو منتقلی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ باقی وزارتیں بھی دو مراحل میں آئندہ سال تیس جون تک صوبوں کو منتقل کردی جائیں گی۔

سینیٹر رضا ربانی نے بتایا کہ صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں کے عالمی معاہدوں کے معاملات وفاقی میں اقتصادی امور کی وزارت کے پاس رہیں گے۔ جبکہ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ساڑھے تین ہزار سے زیادہ ملازمین کو صوبوں میں منتقل کردیا جائے گا اور کسی کو بھی برطرف نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں قانون سازی بھی کی جائے گی تاکہ مرکز سے صوبوں میں جانے والے ملازمین کی سینارٹی اور ملازمت کے فوائد متاثر نہ ہوں۔

اسی بارے میں