’پاکستانی حکومت ڈرون حملوں کی حامی‘

Image caption پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں

وکی لیکس کی طرف سے برطانوی اخبارگارڈین کو دیےگئے امریکی سفارتی پیغامات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی حمایت کی تھی۔

ڈرون حملوں سے متعلق پیغامات تئیس اگست دو ہزار آٹھ کے ہیں جن میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے امریکی دفترِ خارجہ کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان سرکاری طور قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت کرتی ہے لیکن نجی طور پر اس کی حمایت کرتی ہے۔

ڈرون حملے: ہرجانے کا دعوٰی

ڈرون حملوں کا دائرہ بڑھانے کی اجازت نہیں

ڈرون حملوں میں تیزی کیوں

مراسلے کے مطابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے تجویز دی تھی کہ ڈرون حملوں کو باجوڑ آپریشن کے بعد تک روک لیا جائے تاہم وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے رحمان ملک کے بیان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ’مجھے اس پر اس وقت تک کوئی اعتراض نہیں جب تک وہ صحیح افراد کو نشانہ بناتے رہیں۔ ہم قومی اسمبلی میں اس کے خلاف احتجاج کریں گے اور بعد میں اس کو نظر انداز کر دیں گے‘۔

باجوڑ آپریشن کے حوالے سے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی سفیر کو یقین دہانی کرائی کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب اس کے مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔ گیلانی نے امریکی سفیر کو بتایا کہ دوسرے مرحلے میں وہ طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے خلاف آپریشن کریں گے۔

مراسلے کے مطابق وزیرِ اعظم گیلانی چاہتے تھے کہ امریکی صدر بش کو اس بات کا پتا ہونا چاہیے کہ آپریشن میں پانچ سو سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں اور پاکستان نے نیٹو سے بھی تعاون شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ اور پاکستان کی افواج کے مابین تعاون بڑھانے کےلیے ہر ممکن کوشش کریگا۔

وزیر اعظم گیلانی نے امریکی سفیر کو بتایا کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں ایف سولہ طیارے استعمال کر رہا ہے اور انہوں نے ایف سولہ طیاروں کےلیے فنڈز مہیا کرنے کےلیے امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

داخلہ امور کے وزیر مملکت تسنیم قریشی نے پاکستانی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں سے متعلق وکی لیکس کی رپورٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان حملوں سے متعلق حکومت کا واضح موقف ہے اور موجودہ حکومت نے کبھی بھی دوہرایا معیار نہیں اپنایا جس میں اندرونی طور پر ڈرون حملوں کی حمایت جبکہ عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے ان حملوں کے کُھلے عام مذمت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے کسی بھی اجلاس میں یہ بات کبھی بھی زیر بحث نہیں آئی کہ قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اجلاس میں ڈرون حملوں سے متعلق ہونے والی بحث میں اس کی حمایت کی جائے۔

اسی بارے میں