حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

وفاقی حکومت نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کا ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا گیا ہے۔

تاہم عدالت کا کہنا ہے کہ اس ترمیمی آرڈیننس کی واپسی کے نوٹیفکیشن کی کاپی عدالت میں پیش کی جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سینیٹر ظفر علی شاہ کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قیام کا اعلان ہوچکا ہے اس لیے حکومت نیب کا ترمیمی آرڈیننس واپس لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ترمیمی آرڈیننس کا مقصد نیب کی عدالتوں میں مقدمات کو دوسری عدالتوں میں منتقل کرنا تھا اس لیے اب اس آرڈیننس کی کوئی ضرورت نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قیام کا اعلان کا نیب کے ترمیمی آرڈیننس سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

درخواست گُزار ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ صدر کی طرف سے اس آرڈیننس کے جاری کرنے کا مقصد عدلیہ کے اختیارات کو سلب کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں متعدد بار کہا ہے کہ انہوں نے نیب کے ترمیمی آرڈیننس سے متعلق کوئی ایڈوائس نہیں بھیجی جبکہ دوسری طرف وزیر قانون ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اس ترمیمی آرڈیننس کے خدوخال بیان کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میری درخواست یہ نہیں ہے کہ اس ترمیمی آرڈیننس کو واپس لیا جائے بلکہ درخواست اُس غیر قانونی اقدام سے متعلق ہے جو اس آرڈیننس کے اجراء کے دوران اُٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی اور سینیٹ دونوں کے اجلاس طلب کیے جاسکتے تھے تو پھر ہنگامی طور پر نیب کے ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ عدالت نے اس قانونی نُکتے پر بھی اٹارنی جنرل سے وضاحت مانگ لی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے جو ایڈوائس وزارت قانون کو بھجوائی گئی تھی اُس میں ٹمپرنگ کی گئی ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اس ترمیمی آرڈیننس کی نوٹیفکیشن کی ایک کاپی سات دسمبر تک عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت سات دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ صدر آصف علی زردرای نے وزارت قانون کی طرف سے بھجوائی جانے والی سمری پر سولہ ستمبر کو نیب کا ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا۔ اس آرڈیننس میں نیب کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو دوسری عدالتوں میں منتقل کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کو دے دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں