ایل او سی: فائرنگ سے دو شہری زخمی

فائل فوٹو، بھارتی فوج
Image caption بھارتی فوج کی جانب سے ابھی تک اس واقعے پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے الزام لگایا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سے بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت دو شہری زخمی ہوگئے ہیں اور ایک مکان کو نقصان پہنچا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار تین میں بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کے بعد اب تک ان سات سال کے دوران یہ چوتھا موقع ہے کہ دو طرفہ فائرنگ کی زد میں عام شہری آئے۔

جنوبی ضلع راولاکوٹ کے علاقے ہجیرہ کے اسسٹنٹ کمشنر راجہ ارشد محمود خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے جمعرات کی شام کو بٹل گاؤں پر بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ شروع کردی جو وقفے وقفے سے دو گھنٹے تک جاری رہی۔

جنوبی ضلع راولاکوٹ کا یہ گاؤں عین لائن آف کنٹرول پر واقع ہے اور اس گاؤں سے بھارتی افواج کی چوکیاں محض چند سو میٹر کے فاصلے پر ہیں جب کہ پاکستان کی فوج کی چوکیوں سے گزر کر اس گاؤں تک پہنچا جاتا ہے۔

ہجیرہ کے اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق بھارتی فوج نے اس فائرنگ میں مشین گن کے ساتھ ساتھ مارٹر کا بھی استعمال کیا۔حکام کے مطابق پاکستان کی فوج نے بھی جواب میں فائرنگ کی

انھوں نے کہا کہ بھارت کی فوج کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت دو شہری زخمی ہوگئے جب کہ ایک مکان کو نقصان پہنچا۔

انھوں نے کہا کہ زخمیوں کو علاج کے لیے مقامی ہپستال میں منتقل کیا گیا ہے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ کم و بیش دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک ہی محدود رہا۔

اس کے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں البتہ ان سات سال کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر حکام کے مطابق بھارتی فوج کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک بچی سمیت دو عام شہری ہلاک جب کہ نصف درجن سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کرنے اور فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

یہ الزام اور جوابی الزام اپنی جگہ لیکن دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والے عام شہری مستقل خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کے معاہدے سے پہلے لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

اس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سینکڑوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے یا پھر عمر بھر کے لیے معذور ہوئے اور لوگوں کی املاک تباہ ہوئیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

بھارت اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور انھیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل کرانے کے لیے فائرنگ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے لیکن پاکستان اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے ۔

پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔