حج بدعنوانی معاملے میں عدالتی نوٹس

فائل فوٹو
Image caption حج میں بدعنوانی پر متعلقہ حکام کو طلب کیا گیا ہے

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نےحج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبروں پر از خودنوٹس لیتے ہوئے اس سے متعلق ایک پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے۔

یہ بینچ پیر سے اس معاملے پر سماعت کرے گی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں بننے والی اس پانچ رکنی بینچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے شامل ہیں۔

عدالت نے اس ضمن میں وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی، وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی اعظم سواتی، قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین، سابق ڈائریکٹرجنرل حج راؤ شکیل اور دیگر حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُنہیں طلب کیا ہے۔

عدالت عظمی نے سکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکرٹری داخلہ کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔

اس از خود نوٹس میں سعودی شہزادے بندر بن خالد بن عبدالعزیزالسعود کے خط کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے جو انہوں نے پاکستان کے چیف جسٹس کو لکھا تھا۔

اس خط میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے کہا ہے کہ حج کے دوران 35000 پاکستانی حاجیوں کے لیے حرم سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش گاہیں 3350 سعودی ریال میں دینے کے بارے میں کہا گیا تھا۔

خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وزارت حج کے اعلیٰ حکام نے حرم سے ساڑھے تین کلومیٹر دور وہی رہائش گاہیں عازمین حج کے لیے 3600 ریال پر حاصل کی تھیں۔

سعودی شہزادے نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے پاس اس بدعنوانی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ عدالت نے یہ خط وزارت خارجہ کو بھجوادیا تھاجبکہ سیکرٹری مذہبی امور کو اس خط کا جواب دینے کا حکم دیا تھا۔

حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمن گروپ) سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر اعظم سواتی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی پرحج انتظامات میں بدعنوانی کا الزام عائد کیاہے۔

Image caption مذہبی امور کے وزیر کا کہنا ہے کہ سعودی شہزادے کا جواب دیا جا چکا ہے

لیکن وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان دونوں وزراء کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے روکا ہے۔

مذہبی امور کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ارکان نے بھی سعودی عرب کے دورے کے دوران حج انتظامات میں بدعنوانی کی شکایت وزیر اعظم سے کی تھی جس کے بعد سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو واپس بُلالیا تھا۔

بعد میں تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے اُنہیں حج انتظامات میں بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور سابق ڈائریکٹر حج راؤ شکیل کو بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کا کہنا تھا کہ حج انتظامات میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق سعودی شہزادے کے خط کا جواب اُن کی وزارت کے سیکرٹری نے عدالت میں جمع کروادیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی سیکریٹری نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ حرم کے پاس حاجیوں کے لیے رہائش گاہیں 1600سعودی ریال میں خریدی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ وہ وفاقی وزیر سیکریٹری مذہبی امور کے بیان کے بارے میں حتمی طور پر نہیں بتاسکے کہ آیا اُن کا بیان درست ہے یا غلط۔

حامد سعید کاظمی کا کہنا تھا کہ اُنہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وفاقی سیکریٹری سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کسی ایک عمارت کے بارے میں بات کر رہے تھے یا مجموعی طور پر۔

عدالت نے سیکرٹری مذہبی امور سے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ حج پالیسی پاکستانی اور ہسمایہ ملکوں سے جانے والے حاجیوں کے درمیان جو پیسوں کا فرق ہے اس سے متعلق بھی عدالت کو سماعت کے دوران آگاہ کیا جائے۔