’سٹریٹجک تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘

فائل فوٹو، ہیلری کلنٹن،
Image caption امریکی وزیر خارجہ نے وکی لیکس پر شائع شدہ پیغامات کو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا تھا

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے صدر آصف علی زرداری کو امریکی سفارتی دستاویزات منظر عام پر آنے کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے جمعرات کی رات کو صدر آصف علی زرداری سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وکی لیکس کی جانب سے افشاء کی گئی دستاویزات نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ یہ کسی پس منظر کے بغیر شائع کی گئی ہیں اور چونکہ یہ دستاویزات ٹھوس معلومات پر مبنی نہیں ہیں اس لیے یہ سرکاری خط و کتابت کی صحیح صحت کی عکاسی بھی نہیں کرتیں۔

وکی لیکس: رازوں کا پنڈورا بکس: خصوصی ضمیمہ

ترجمان کے مطابق ہیلری کلنٹن اور صدر زرداری نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وکی لیکس کے ان انکشافات سے دونوں ممالک کے سٹریٹجک تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

وکی لیکس پر امریکی خفیہ سفارتی پیغامات شائع ہونے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابط ہے۔

پاکستان نے وکی لیکس کی طرف سے جاری کی گئی امریکی خفیہ دستاویزات کی مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ وکی لیکس پر شائع شدہ امریکی خفیہ سفارتی پیغامات کے مطابق سنہ دو ہزار نو کے اوائل میں جنرل کیانی نے صدر زرداری کو ہٹانے کا خیال ظاہر کیا تھا۔

ان دستاویزات میں سے ایک میں گیارہ فروری کی ایک دستاویز کے مطابق سعودی شاہ عبداللہ کا ماننا ہے کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کارروائی میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔

دستاویز کے مطابق سعودی فرمانروا نے صدر زرداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر سر ہی گلا سڑا ہو تو اس کا اثر سارے جسم پر پڑتا ہے‘۔

اسی بارے میں