مہمند ایجنسی: پرائمری سکول تباہ

فائل فوٹو
Image caption ایجنسی میں تباہ ہونے والے سکولوں کی تعداد ستر ہو گئی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق لڑکوں کے ایک پرائمری سکول کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس ایجنسی میں تباہ ہونے والے سکولوں کی تعداد سترہو گئی ہے۔

مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں کل رات نامعلوم افراد نے لڑکوں کے ایک پرائمری سکول کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

نامہ نگارعزیز اللہ خان کے مطابق پولیٹکل انتظامیہ کےحکام نے بتایا ہے کہ یہ سکول ایجنسی ہیڈ کوراٹر غلنئی سے ساٹھ کلومیٹر دور شنواری کے علاقے میں قائم تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایک ماہ پہلے بھی اسی سکول میں دھماکہ کیا گیا تھا اور کل رات اسی سکول کے جو کمرے بچ گئے تھے ان میں دھماکہ کرکےسکول کی پوری عمارت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ تحصیل صافی میں کشیدگی پائی جاتی ہے اس لیے اس علاقے میں لوگوں کا آنا جانا کم ہے اور یہ علاقہ پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔

مہمند ایجنسی کے محکمہ تعلیم کے افسر اور پشاور میں فاٹا ڈائریکٹوریٹ کے حکام نے یہ تفصیل بتانے سے انکار کر دیا کہ اِن علاقوں میں اب تک کتنے سکول تباہ کیا گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اعلیٰ حکام کی جانب سے حکم ملا ہے کہ اس بارے میں کسی کو کوئی معلومات فراہم نہ کی جائیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف مہمند ایجنسی میں سترسکول تباہ کیے گئے ہیں جبکہ باجوڑ ایجنسی میں ننانوے اور خیبر ایجنسی میں تیس سے زیادہ سکولوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں اب تک دو سو سے اڑھائی سو تک سکولوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ان علاقوں میں مہمند، باجوڑ، خیبر، کرم اور اورکزئی ایجنسی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی میں اب تک کسی بھی سکول کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

گزشتہ سال کیڈٹ کالج رزمک کے طالب علموں کو اغواء ضرور کیا گیا تھا لیکن انھیں چند دنوں میں اُس وقت کے طالبان رہنما بیت اللہ محسود سے تحائف دے کر بحفاطت رہا کر دیا تھا۔

کیڈٹ کالج رزمک کو کشیدہ حالات کی وجہ سے بند کرکے طالب علموں کے لیے پشاور میں کلاسز شروع کی گئی ہیں تاکہ ان کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔

دریںء اثنا خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں رات گئے نامعلوم افراد نے ایک دینی مدرسے کی دیوار کے قریب دھماکہ کیا جس سے کمروں اور دیوار کو نقصان پہنچا ہے۔

یہ مدرسہ جامع بنوریہ اشخیل شنواری کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس دھماکے سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

مدرسے کے مہتمم کے بیٹے نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ یہ کاروائی کس نے کی ہے۔

یاد رہے تین ماہ پہلے اس مدرسے کے قریب ایک جامع مسجد بنوریہ کے قریب دھماکہ کیا گیا تھا۔

مہمند ہی میں ایک اور واقعہ میں نامعلوم افراد کے فرنٹیئر کور کی گاڑی پر حملے کے نتیجے میں ایک لانس نائک ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعہ کی صبح اُس وقت پیش آیا جب نیم فوجی دستے کے اہلکار سڑک کی حفاظت کے لیے تحصیل صافی میں چناری کے مقام پر گشت کر رہے تھے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ گشت کے دوران سڑک کے کنارے گھات لگائے نامعلوم افراد نے ایف سی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں لانس نائک نور رحمان موقع پر ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ لانس نائک اسرار، سپاہی نقیب علی اور سپاہی ریاض علی زخمی ہوئے ہیں۔

انتظامیہ کےاہلکاروں نے بتایا کہ ایف سی کے جوانوں نے جوابی کارروائی کی لیکن حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔

حکام کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں جہاں سکولوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات آئے روز موصول ہوتی رہتی ہیں۔

دریں اثنا تحریک طالبان پاکستان کے مہمند ایجنسی کے ترجمان سجاد مہمند نے نامعلوم مقام سے ٹییفون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہاں ہے کہ ان کے حملے آیندہ بھی جاری رہیں گے۔