مہمند طالبان کی طاقت و پس منظر

مہمند ایجنسی
Image caption مہمند ایجنسی میں حالیہ دھماکے سے کک از چالیس افراد ہلاک بتائے جاتے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں تقریباً تین سال قبل بظاہر لال مسجد آپریشن کے ردعمل میں منظر عام پر آنے والے چند درجن مسلح طالبان کی طاقت سکیورٹی فورسز کی متعدد کارروائیوں کے باوجود بھی کم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

پشاور شہر سے تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قبائلی ایجنسی مہمند میں آج کل شائد ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہوگا جس میں کوئی نہ کوئی واقعہ پیش نہ آتا ہو۔ اس ایجنسی کا شمار اب ملک کے ان علاقوں میں ہونے لگا ہے جہاں بڑے بڑے دھماکے ہوچکے ہیں۔ پیر کو مہمند ایجنسی کے مرکز غلنئی میں چالیس افراد ہلاک ہوئے جب کہ جولائی میں یکہ غنڈ میں کے خودکش حملے میں سو سے زائد افراد کی جان گئی۔

مہمند میں خودکش دھماکے: تصاویر

مہمند ایجنسی میں طالبان کا ظہور زیادہ پرانی بات نہیں۔ تین سال پہلے جب اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کا اختتام قریب تھا تو اس دوران مہمند ایجنسی میں عبد الولی عرف عمر خالد کے نام سے ایک کمانڈر نمودار ہوئے اور انہوں نے جنگ آزادی کے ایک ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر قبضہ کرکے اسے لال مسجد کا نام دے دیا۔ اس وقت عمر خالد کے ساتھ کوئی ستر یا سو کے قریب عسکریت پسند تھے۔ یہ گروپ بظاہر لال مسجد کے ردِ عمل میں منظر عام پر اور عمر خالد صحافیوں سے گفتگو میں بار بار کہتے تھے کہ لال مسجد آپریشن کا بدلہ لیا جائے گا۔

وقت گزرنے کے سجتھ ساتھ طالبان صافی تحصیل سے نکل کر ایجنسی کے دوسرے علاقوں تک پھیلنے لگے۔ جولائی دو ہزار آٹھ میں مہمند ایجنسی میں عمر خالد اور سلفی طالبان کے نام سے مشہور شاہ خالد گروپ کے مابین شدید جھڑپ ہوئی جس میں شاہ گروپ کے کئی افراد مارے گئے۔

ان دنوں یہ اطلاعات بھی عام تھیں کہ عمر خالد کو شاہ خالد گروپ کے خلاف کارروائی کے پاداش طالبان تحریک سے نکال دیا گیا ہے۔ تاہم مہمند طالبان کے ترجمان اس کی تردید کر چکے ہیں۔

جس سال مہمند ایجنسی میں طالبان منظر عام پر آئے اسی سال سکیورٹی فورسز نے بھی ان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔ کوئی دو مرتبہ تو سکیورٹی فورسز یہ دعویٰ بھی کرچکی ہیں کہ ایجنسی کو شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے لیکن حقائق اس سے مختلف ہیں۔

گزشتہ چار پانچ ماہ سے مہمند ایجنسی میں حالات انتہائی کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ علاقے میں ہر دوسرے تیسرے دن کبھی سرکاری سکول کو نشانہ بنایا جاتا یا سکیورٹی فورسز پر حملے کیے جاتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ شدت پسند کارروائیاں انتہا کو چھو رہی ہے تو کچھ زیادہ غلط نہ ہوگا۔

حکومت نے طالبان کو عام لوگوں سے لاتعلق کرنے کےلیے لشکر بنانے کی حکمت عملی بھی آزمائی اور کئی علاقوں میں طالبان مخالف امن کمیٹیاں بھی بنائیں لیکن قبائلی عمائدین پر حملوں اور ان کے مکانات کو نذرآتش کرنے کے واقعات کے بعد یہ کوشش بھی تاحال کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔

حالیہ حملہ بھی خویزئی اور صافی تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے حکومتی حامی قبائلی مشران پر کیا گیا جو اطلاعات کے مطابق طالبان کے خلاف لشکر بنانے کی تیاریوں پر جرگہ کر رہے تھے۔

مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ جس جگہ حملہ کیا گیا وہاں تک پہچنے کےلیے دو یا تین مقامات پر ہر شخص کی سخت جامہ تلاشی لی جاتی ہے جب کہ ایک جگہ پر دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کےلیے ایک سکینر بھی نصب کیا گیا ہے۔ پھر اے پی اے کے دفتر کے سامنے بھی سکیورٹی اہلکار تلاشی لیتے ہیں لیکن ان تمام تر انتظامات کے باوجود بھی حملہ آوار اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائیوں سے ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو نقصان تو پہنچا ہے لیکن اس سے شدت پسندوں کے کئی چھوٹے چھوٹے گروہ وجود میں آنے لگے ہیں جو اب بڑے گروپوں کے ماتحت نہیں رہے جس سے یہ مسئلہ مزید گھمبیر ہوتا جارہا ہے۔

بعض مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بیک وقت کئی علاقوں میں آپریشن اور کوئی بھی علاقہ مکمل کنٹرول میں نہ آنے کی وجہ سے سکیورٹی ادارے بھی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں