’ فاصلے کم کرنے کی ایک کوشش‘

Image caption ایونٹ میں مختلف سماجی مسائل پر سیمینار، معلوماتی سیشن، ڈرامے اور موسیقی کے پروگرام منقعد ہونگے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پہلی بار چار روزہ انٹرنیشنل یوتھ کانفرس اینڈ فیسٹیول کا آغاز ہوا ہے۔

پیر کو شروع ہونے والے اس ایونٹ کا مقصد پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، شدت پسندی اور معاشی مشکلات جیسے ماحول میں رہنے والے پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ممالک سے آنے والے نوجوانوں سے باہمی رابطے کے ذریعے ان کی ثقافت اور سماجی اقدار کو سمجھنے کا ایک موقع فراہم کرنا ہے۔

کانفرس اینڈ فیسٹیول کا انقعاد دو غیر سرکاری تنظیموں خودی اور میرا ڈور پروڈکشن نے مختلف سرکاری اور نجی اداروں کے تعاون سے کیا ہے۔

میرا ڈور پروڈکشن کے ڈائریکٹر عبدالرحمان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ کانفرس میں پاکستان بھر سے ڈیڑھ سو نوجوانوں کے علاوہ بارہ مختلف ممالک سے ڈیڑھ سو ممبران شرکت کر رہے ہیں۔

عبدالرحمان نے بتایا کہ ’ پاکستان میں آبادی کا باسٹھ فیصد چوبیس سال سے کم عمر کے افراد پر مشتمل ہے، اس کانفرس اور فیسٹول کے انعقاد کا مقصد پاکستان کے نوجوانوں کو موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ دوسری ممالک کے نوجوانوں کے ساتھ رابط کریں جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور دوسرے ممالک کی ثقافت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اس طرح کے فیسٹیول کی وجہ سے باہر آنے والے نوجوان بھی بہتر طور پر پاکستان کی نوجوان نسل اور یہاں کے حالات اور ثقافت کے بارے میں جان سکیں گے۔‘

عبدالرحمان کے مطابق ’ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بہت سارے لوگ یہاں آنے سے ڈر رہے تھے، بہت سارے لوگوں نے شامل ہونے کے لیے درخواستیں بھیجی تھیں لیکن انھیں منع کیا گیا کہ وہ پاکستان نہ جائیں۔‘

عبدالرحمان کو امید ہے کہ بین الاقوامی یوتھ کانفرس اینڈ فیسٹیول کے پرامن انعقاد سے ایک مثبت پیغام بیرون ملک جائے گا اور اس کی وجہ سے آئندہ سال زیادہ تعداد میں بیرون ممالک سے نوجوان شرکت کریں گے۔‘

فیسٹیول میں شرکت کے لیے کراچی سے آنے والی حریم سومرو نے بتایا کہ اس طرح کے پلیٹ فام کی وجہ سے آپ کے پاس ایک اچھا موقع ہوتا ہے کہ دوسروں سے ایک مہذب انداز میں مختلف مسائل پر بات چیت کر سکیں اور دوسروں کے بارے میں جان سکیں کہ دوسرے ممالک سے آنے والے نوجوانوں کی ہمارے بارے میں کیا رائے ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کانفرس میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک جو پاکستان میں بہت مقبول ہے کہ ان کی ایک اہلکار بھی آئی تھیں جن سے ہمیں پتہ چلا کہ اس طرح کی ویب سائٹس کس طرح کام کرتی ہیں۔‘

Image caption بیرون ممالک سے آنے والوں میں اب وہ ڈر یا خوف نہیں ہے جو پاکستان آنے سے پہلے ان کے ذہنوں میں تھا: حریم سومرو

حریم سومرو کا کہنا ہے کہ ’ بیرون ممالک سے آنے والے نوجوانوں سے مختلف ایشوز پر بات چیت ہوئی ہے اور ان میں وہ ڈر یا خوف نہیں ہے جو پاکستان آنے سے پہلے ان کے ذہنوں میں تھا، اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے یہ ایک بہترین ذریعہ ہے جس کی وجہ سے ملک کا مثبت پہلوں باہر جائے گا۔‘

لاہور سے آنے والے ایک طالب علم حمزہ اقبال نے بتایا کہ ‘یہ ایونٹ ایک بہت اچھا قدم ہے لیکن اس کو ایسا بنانے کی ضرورت ہے کہ نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطہ کر سکیں، جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں اور ایک دوسرے کی سوچ کا اندازہ ہو سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ اس بین الاقوامی ایونٹ کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کا امیج بہتر ہو گا بلکہ اس سے پاکستانی طلبہ کو اس بھی فائدہ پہنچے گا اور بیرون ممالک ان کے لیے مزید مواقع پیدا ہونگے۔‘

تھائی لینڈ سے پہلی بار پاکستان آنے والی سرا نے کہا کہ اس سے پہلے وہ پاکستان کو انٹرنیٹ اور ٹی وی کے ذریعے ہی جانتی تھیں جس کی وجہ سے پاکستان کے بارے میں ان کی رائے کوئی زیادہ اچھی نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ’ اگر صاف گوئی سے بات کروں تو پاکستان آ کر مجھے بہت اچھا لگا ہے اور میرے خیالات کافی بدلے ہیں کیونکہ کسی ملک جا کر ہی وہاں کے حالات اور لوگوں کو سمجھا جا سکتا ہے‘۔

چار روز تک جاری رہنے والی والی بین الاقوامی یوتھ کانفرس اینڈ فیسٹیول میں مختلف سماجی مسائل پر سیمینار، معلوماتی سیشن، ڈرامے اور موسیقی کے پروگرام منعقد ہوں گے۔

اس فیسٹیول میں نوجوانوں کی خوشی اور جذبہ دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی، معاشی مشکلات اور تفریحی کے سکڑتے مواقعوں کے تناظر میں اس طرح کے ایونٹس کی کتنی شدت سے کمی محسوس کی جا رہی تھی۔

اسی بارے میں