مہمند:ہلاک شدگان کی تدفین اور سوگ

مہمند دھماکے کی تصویر
Image caption دھماکوں میں تقریبا چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں دو خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ سوموار کو دھماکوں میں شدید زخمی ہونے والے مزید دو افراد دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اب بیالیس ہو گئی ہے۔

تاہم پولیٹیکل انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چالیس ہی ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کا سلسلہ کل شام سے جاری ہے اور منگل کی صبح بھی ایک درجن افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔

ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال غلنئی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جہانگیر نے بی بی سی کے عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد ان کے پاس پینتیس لاشیں اور تقریباً چالیس زخمی لا ئے گئے تھے جن میں سے کچھ کو ہسپتال انتظامیہ نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھیجا ہے جبکہ کچھ براہ راست پشاور پہنچے ہیں ۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان جمیل شاہ نے بتایا ہے کہ ایل آر ایچ میں اکتالیس زخمی اور چار لاشیں لائی گئی ہیں جبکہ ایک زخمی نے ہسپتال میں دم توڑ دیا ہے۔

ڈاکٹر جہانگیر نے کہا کہ غلنئی ہسپتال میں سہولیات کی کمی کی وجہ سے اکثر لوگ پشاور کے ہسپتال پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نو لاشوں کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی ہے جبکہ دو لاشیں ایسی تھیں جن کے جسم کے مختلف حصے ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی لاشیں حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں تاکہ اس بارے میں تحقیقات کی جا سکیں۔

ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں دو اہم قبائلی رہنما ملک محمد سلیم اور ملک حاجی کچکول کے علاوہ بارہ سرکاری ملازمین جن میں پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر اہلکار اور خاصہ دار شامل ہیں۔

مہمند ایجنسی کے دو صحافی ایکسپریس ٹی وی چینل کے وہاب اور وقت نیوز کے پرویز خان بھی ان دھماکوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ دونوں صحافی جرگے کی کوریج کے لیے پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر گئے تھے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس نے دونوں صحافیوں کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں