این ایل سی انکوائری: کارروائی مؤخر

قومی اسمبلی
Image caption این ایل سی کے مقدمے کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ تحقیقات پر تحقیقات شروع کر کے معاملے کو طول دیا جا رہا ہے

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیشنل لاجسٹک سیل ’این ایل سی‘ میں ہونے والی ’کروڑوں روپوں کی بے قائدگیوں‘ پر مزید کارروائی چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ آنے تک مؤخر کردی ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں چودھری نثار علی کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہ ہوتا کہ آرمی چیف تحقیقاتی کمیٹی بناتے وقت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اعتماد میں لیتے کیونکہ ’این ایل سی‘ میں ہونے والی بے قائدگیوں کا معاملہ زیر غور تھا۔

کمیٹی کے سربراہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ فوج کے سربراہ کی بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کی جائے۔ جس پر سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) اطہر علی نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی کی تحقیقات جاری ہیں اور کوشش ہوگی کہ اُسے جلد مکمل کر لیا جائے۔جیسے ہی رپورٹ آئے گی تو ’پی اے سی‘ کو پیش کر دی جائے گی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ کچھ لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ تحقیقات پر تحقیقات شروع کر کے معاملے کو طول دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ’این ایل سی‘ کے سینیئر افسران جو کہ فوجی ہیں، انہوں نے پرویز مشرف کے دور میں حکومت کے کہنے پر اپنے فنڈ سٹاک مارکیٹ میں لگائے جس کی وجہ سے ایک ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا۔ آڈیٹر جنرل نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اُسے خلاف قانون قرار دیا تھا۔ اس ’بے قائدگی‘ میں تین فوجی جرنیلوں کے نام آتے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی ’سی ڈی اے‘ کے معاملات پر غور کے دوران اسلام آباد میں قبضہ مافیا کے خلاف ذرائع ابلاغ کی خبروں پر تین رکنی ذیلی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا حکم دے دیا اور ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔

کمیٹی نے کراچی میں شیرشاہ پل گرنے کے معاملے پرنیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سابق چیئرمین فرخ جاوید اور سابق سیکرٹری مواصلات کوطلب کرنے کی ہدایت کی۔ چوہدری نثار علی خان نے شیر شاہ پل کے کنسلٹنٹ کو بلیک لسٹ نہ کیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

چیئرمین این ایچ اے الطاف چودھری نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی ناردرن بائی پاس کی الائنمنٹ میں مسئلہ تھا، لیکن پرویز مشرف کےحکم پر اسے نظرانداز کرتے ہوئے تعمیراتی کام شروع کردیاگیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ شیرشاہ پل گرنے کے بعد این ایچ اے کے حکام متعلقہ ٹھیکیدار سے انتیس کروڑ انچاس لاکھ روپے وصول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جس پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو بھی جاری رہے گا۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ این ایل سی نے حکومتی اجازت کے بغیر گوجرانوالہ میں ایک سو سات ایکڑ سے زائد دفاعی مقاصد کے لیے حاصل کردہ اراضی پر اپنے بیرکس بنائے، جس سے قومی خزانے کو انسٹھ لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

جس پر کمیٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے وزارت دفاع کو ہدایت کی کہ وہ اراضی کا معاملہ چار ہفتوں میں نمٹائیں اور کمیٹی کو مطلع کیا جائے۔

اسی بارے میں