اثرات کوہاٹ سے افغان سرحد تک

Image caption کوہاٹ سے لے کر کرم ایجنسی کے افغان سرحد تک یہ سارے علاقے ایک دوسرے ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ ان میں کسی ایک مقام پر بھی ایک چھوٹے سے واقعہ سے سارا علاقہ کشیدگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے جنوبی شہر کوہاٹ میں بدھ کو ہونے والے مبینہ خودکش حملے کا نشانہ بظاہر تو واضح نہیں لیکن اگر موقع محل کے حوالے سے اس کا جائزہ لیا جائے تو اس کے اثرات کوہاٹ سے لے کر افغان سرحد تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

دھماکہ تیراہ بازار میں کلایہ اڈے میں ہوا جہاں سے عام طورپر لوگ اورکزئی ایجنسی جاتے ہیں۔ کلایہ لوئر اورکزئی ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں پر اکثریت میں شعیہ قبائل آباد ہیں۔

کوہاٹ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش سے جو بات سامنے آئی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شاید اس حملے کا ٹارگٹ اہل تشیع تھے لیکن ہلاک ہونے والوں میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

دھماکہ بھی ایک ایسے وقت ہوا ہے جب آج ہی ماہِ محرم کا پہلا دن ہے۔

کوہاٹ اور اس سے ملحق واقع ضلع ہنگو، اورکزئی ایجنسی اور کرم ایجنسی کا شمار بنیادی طور پر انتہائی حساس علاقوں میں ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں فرقہ وارانہ واقعات کی ایک بھیانک تاریخ موجود ہے۔

گزشتہ سال پورے ملک میں محرم کا مہینہ پرامن طریقے سے گزرا تھا جس سے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ اس سال ان علاقوں میں پہلے کے مقابلے میں اتنی زیادہ تشویش دیکھنے میں نہیں آرہی تھی لیکن حالیہ واقعہ سے یقینی طورپر فضا سوگوار ہوگئی ہے۔

اورکزئی اور کرم ایجنسی میں تو پہلے ہی سے کشیدگی چلے آرہی ہے۔ ایک علاقے میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن جاری ہے جبکہ دوسرے ایجنسی میں ٹارگٹ کارروائیاں اور اس کے ساتھ ساتھ پچھلے دو سالوں سے تمام مرکزی سڑکیں بھی بند ہیں۔ اس ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں جانے والے عام افراد کے قافلے بھی نشانہ بن رہے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی میں آپریشن کی وجہ سے زیادہ تر بے گھر افراد ہنگو میں پناہ لیے ہوئے ہیں جن میں دونوں فرقوں کے افراد شامل ہیں۔ دوسری طرف خود ضلع ہنگو بھی فرقہ وارانہ واقعات سے بری طرح متاثر رہا ہے۔ یہاں بھی محرم کے جلوس کے حوالے سے ایک مسئلہ پہلے ہی فریقین کے مابین چل رہا ہے۔

ضلع ہنگو میں گزشتہ چند برسوں سے محرم کے ماہ میں ہر سال فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ صرف پچھلے سال محرم کا مہینہ پرامن طریقے سے اختتام پزیر ہوا تھا۔ ان پرتشدد لڑائیوں کو دیکھتے ہوئے ہر مرتبہ مقامی باشندے یوم عاشورہ سے پہلے پہلے علاقے سے نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہوتے تھے۔

اس مرتبہ محرم کا ماہ ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ مقامی لوگوں نے دوسرے شہروں میں منتقل ہونے کی تیاریاں شروع کردی تھی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہنگو میں امن و امان برقرار رکھنے کےلیے چند دن پہلے سکیورٹی فورسز کے کچھ اضافی دستے بھی پہنچے ہیں۔

کوہاٹ سے لے کر کرم ایجنسی کے افغان سرحد تک یہ سارے علاقے ایک دوسرے ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ ان میں کسی ایک مقام پر بھی ایک چھوٹے سے واقعہ سے سارا علاقہ کشیدگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پورے علاقے میں حکومت کی بظاہر کمزور عمل داری اور ناکامی کی بڑی وجہ شدت پسندوں تنظیموں کے اثر رسوخ میں اچانک اضافہ، امن معاہدوں پر عمل درآمد کا شدید فقدان اور حکومتی اداروں کا فریقین سے نرم رویہ بتایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں