کوہاٹ بس اڈے پر خودکش حملہ، پندرہ افراد ہلاک

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہاٹ میں ایک خود کش دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔

کوہاٹ کے ضلعی پولیس افسر دلاور بنگش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دوپہر کے وقت ایک نوجوان نے تیراہ روڈ پر اورکزئی ایجنسی کے علاقے کلایہ کے کوچ اڈے میں اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

پولیس کے مطابق نوجوان حملہ آور کی عمر پندرہ سے سولہ سال کے لگ بھگ تھی اور اس نے اپنے آپ کو کلایہ جانے والی اس کوچ کے دروازے میں اڑا دیا۔ دھماکے کے وقت بارہ سے پندرہ تک سواریاں بیٹھی ہوئی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق حملہ آور کا سر اور ٹانگیں ملی ہیں جس کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل نے کوہاٹ میں بدھ کو ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تنظیم کے نائب ترجمان حاجی منصور نے ہمارے ساتھی دلاور خان وزیر کو بتایا کہ یہ حملہ انھوں نے شیعوں پر کیا ہے۔

اورکزئی ایجنسی کی طرف جانے والی گاڑیوں کا یہ اڈا شہر کے اندر واقع ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام اڈوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ شہر کے باہر قائم اڈے کو منتقل ہو جائیں۔

ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت اس تیراہ روڈ پر بڑی تعداد میں لوگ موجود ہوتے ہیں۔ جس مقام پر یہ اڈہ قائم ہے یہاں پر شہر کے مضافاتی علاقوں سے آنے والے لوگوں کا ہجوم لگا رہتا ہے۔

دلاور بنگش کے مطابق محرم کے حوالے سے علاقے میں حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے لیکن چونکہ کوہاٹ کی سرحد ایک طرف اورکزئی ایجنسی سے تو دوسری جانب اس کی سرحد درہ آدم خیل سے لگتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ محرم کے حوالے سے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ شدت پسندوں نے غیر واضح راستوں کا استعمال کیا ہے۔

ان سے جب پوچھا کہ یکم محرم کو اس طرح کا واقعہ پیش آنا کیا حفاظتی انتظامات کی ناکامی نہیں ہے تو انھوں نے کہا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں شیعہ اور سنی دونوں مسلک کے لوگ شامل تھے اور اس طرح کی کارروائی حالات خراب کرنے کی ہی کوشش نظر آتی ہے۔

کوہات میں پہلے بھی اس طرح کی حملے ہو چکے ہیں۔ اس سال ستمبر میں کوہاٹ پولیس لائن میں خود کش دھماکے سے بیس افراد ہلاک اور نوے افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اسی طرح اسی سال اپریل میں متاثرین کے ایک کیمپ میں یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں سینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں