تعلیمی اداروں کی نجکاری پر احتجاج

Image caption پنجاب اسمبلی کے احاطے میں مظاہرے کے دوران اسمبلی کا اجلاس جاری تھا

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بدھ کو طلباء نے تعلیمی اداروں کی نجی کاری کے خلاف احتجاج کیا اور پنجاب اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔تاہم پولیس نے لاٹھی چارج کرکے طلبا کو منتشر کردیا۔

مظاہرہ کرنے والے طلباء نے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں گھس کر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی۔طلباء نے کچھ دیر کے لیے مال روڈ کو بھی بند کردیا۔

طلباء جس وقت پنجاب اسمبلی کے احاطے میں داخل ہوئے اس وقت اسمبلی کا اجلاس جاری تھا اور ارکانِ اسمبلی میں سے کوئی بھی عمارت سے باہر نہیں آیا۔

مظاہرے میں شامل طلباء اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں داخل ہوگئے اور وہاں موجود فرنیچر کو توڑ دیا۔مظاہرین نے پنجاب اسمبلی کی عمارت کے اندر جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے لاٹھی چارج کرکے ان کی یہ کوشش ناکام بنادی۔

پولیس کے لاٹھی چارج کی وجہ سے طلبا منتشر ہوکر پنجاب اسمبلی کی احاطے سے باہر نکل کر مال روڈ پر آگئے ۔پنجاب اسمبلی کے باہر پولیس اور طلباء میں چھڑپیں جاری رہیں۔ طلباء نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دو گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

طلباء نے ناصر باغ کے قریب پی ایم جی چوک میں ایک گاڑی کو بھی آگ لگادی۔ادھر پولیس نے ہنگامی آرائی کے دوران ایک بس کو آگ لگانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ بس ڈرائیور کی درخواست پر درج ہونے والے مقدمہ میں دو افراد نامزد کیا گیا ہے جبکہ دیگر نامعلوم ہیں۔