بجلی گھر: سوا دو ارب قومی خزانے میں جمع

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے حکم پر نوڈیرو اور گُڈو میں کرائے کے بجلی گھر لگانے والی کمپنیوں نے رینٹل پاور کمپنیوں نے سرکاری خزانے میں سوا دو ارب روپے کے چیک جمع کروادیے ہیں۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ کمپنیوں کی طرف سے جمع کروائی گئی رقم کی رسیدیں سپریم کورٹ کو بھجوا دی گئی ہیں۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر نوڈیرو اور گُڈو میں کرائے کے بجلی گھر لگانے والی کمپنیوں نے پیشگی حاصل کی گئی دو ارب روپے سے زائد کی رقم سود سمیت سرکاری خزانے میں جمع کروانے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

ان کمپنیوں نے پیشگی حاصل کی گئی دو ارب روپے کی رقم کو سود سمیت سرکاری خزانے میں اگلے روز یعنی جمعرات تک جمع کروانے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نوڈیرو اور گڈو میں لگائے جانے والے کرائے کے بجلی گھروں میں ہونے والے بدعنوانی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

ایک متعلقہ کمپنی کمپنی (والٹر پاور) کے وکیل شاہد حامد کا کہنا تھا کہ نیپرا نے اُن کی طرف سے دیے گئے بجلی کے ریٹس مسترد کردیے تھے جس کی وجہ سے گُڈو کے منصوبے پر کام روک دیا گیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت نے اس ضمن میں سرکاری خزانے سے 14 فیصد رقم ان کمپنیوں کو پیشگی ادا کردی تھی جو دو ارب روپے بنتی ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ قوم کا پیسہ ہے اُس کے استعمال میں سوچ سمجھ کر کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقت پر یہ زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کو ملکی مفاد میں دیکھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مشینری کے نام پر پہلے گُڈو منصوبے کے حوالے سے رقم لی گئی اور پھر اس کے بعد اسی مشینری کو نوڈیرو میں کرائے کے بجلی گھر میں لگانے کے حوالے سے ایڈوانس رقم حاصل کی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر یہ بات ثابت ہوگئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اُن کی کمپنی کے ذمہ رقم لاہور میں ادا کی جائے گی اور اس رقم میں 8 ماہ کا سود بھی بنتا ہے جو ادا کردیا جائے گا۔

اُدھر برٹش پیٹرولیم کے اثاثے مہنگے داموں خریدنے سے متعلق دائر درخواست پر سپریم کورٹ نے ڈی جی پیٹرولیم کنسورشیم شیر محمد خان کو توہین عدالت کے نوٹس پر فرد جُرم عائد کردی ہے جبکہ سیکرٹری پیٹرولیم کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کرلیا ہے۔

سماعت کے دوران ڈی جی پیٹرولیم کنسورشیم نے ایک تحریری معافی نامہ عدالت میں پیش کیا جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ بعدازاں سماعت کے تین گھنٹے کے بعد شیر محمد خان کی غیر مشروط معافی منظور کرلی اور اُنہیں آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی۔

برٹش پیٹرولیم کے اثاثے مہنگے داموں خریدنے سے متعلق جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سنہ دوہزار دو میں اُس وقت کی حکومت نے برٹش پیٹرولیم کے اثاثے دو سو ملین ڈالر میں فروخت کیے تھے اور اب وہی اثاثے آٹھ سو ملین ڈالر میں خریدے جارہے ہیں۔

اسی بارے میں