’ٹوڑھی بند میں شگاف ڈالا نہیں گیا تھا‘

سندھ میں سیلاب کی فوٹو
Image caption سندھ میں آئے سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے

پاکستان میں سیلاب کے دوران دریائے سندھ پر ٹوڑھی اور ایم ایس حفاظتی بند ٹوٹنے کی وجوہات معلوم کرنے والی عدالتی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ ان بندوں میں شگاف ڈالے نہیں گئے تھے بلکہ پانی کے دباؤ کی وجہ سے قدرتی طور پر پڑے تھے۔

سرکاری کمیٹی کی رپورٹ کے نتائج ایک پریس کانفرنس میں سندھ کےوزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ یہ شگاف ڈالے نہیں گئے تھے بلکہ قدرتی طور پر بن گئے تھے۔

دریائے سندھ کے ٹوڑھی بچاؤ بند میں شگاف پڑنے سے دائیں کنارے پر آباد کئی شہر، قصبے اور دیہات زیر آب آگئے تھے، جبکہ مقامی لوگوں اور بعض سیاست دانوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹوڑھی کے مقام پر بچاؤ بند میں جان بوجھ کر شگاف ڈالا گیا تھا۔

اس معاملے کی تحقیقات کے مطالبات کے بعد سندھ کی حکومت نے عدالتی انکوائری کے احکامات جاری کیے تھے۔

جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی اور جسٹس ریٹائرڈ غلام نبی سومرو پر مشتمل اس کمیشن نے دو ماہ میں اس معاملے کی سماعت مکمل کی۔ اس حوالے سے ایک سو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور جائے وقوع کا معائنہ کیا۔ یہ تحقیقاتی رپورٹ دو سو تیس صفحوں پر مشتمل ہے۔

سید قائم علی شاہ نےاس رپورٹ کا متن تو جاری نہیں کیا تاہم اس کے نتائج پریس کانفرنس کے دوران پڑھ کر سنائیں۔

کمیشن نے کہا ہے کہ ٹوڑھی بند پر محکمۂ آبپاشی کے حکام نے کچھ حد تک غلفت کا ارتکاب کیا ہے جبکہ سجاول کے ایم ایس بند کا ٹوٹنا غیر متوقع تھا، کیونکہ اس کی مؤثر نگرانی نہیں کی گئی۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کمیشن نے کوئی بھی کارروائی تجویز نہیں کی البتہ اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ آبپاشی کے کچھ حکام رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوجائیں۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نےکمیشن کی سفارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے چودہ افسران کو معطل کیا ہے۔ یہ لوگ ان کے انچارج تھے جبکہ گڈو بیراج کے چیف انجنیئر کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان افسران کے لیے محکمانہ انکوائری کے احکامات بھی جاری کیے ہیں، تاکہ وہ اپنی صفائی پیش کر سکیں۔

سپریم کورٹ نے بھی ٹوڑھی بچاؤ بند کے شگاف کے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا جس کی سماعت جمعرات کو ہوگی۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دریا کے حفاظتی بندوں کی مرمت کی ذمہ دار سندھ حکومت نہیں ہے۔ یہ ذمہ داری انڈس ریورز کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت سے اس بارے میں شکایت کی جائے گی کہ انہوں نے بندوں کی مرمت کے لیے کیوں انتظامات نہیں کیے۔

سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیلابی ریلا داخل ہونے سے قبل وزیراعظم کے پاس ایک اجلاس میں واپڈا اور دیگر ماہرین نے کہا تھا کہ سندھ میں نو لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی نہیں آئے گا مگر انھوں نے اور صوبائی سیکریٹری آبپاشی نے آگاہ کیا تھا کہ پانی کی آمد دس لاکھ کیوسک سے زیادہ ہوگی مگر اس وقت ان کی بات کو نہیں مانا گیا مگر بعد میں ان کے خدشات درست ثابت ہوئے۔

اسی بارے میں