سپریم کورٹ: ایک وزیر کا دوسرے پر الزام

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے سپریم کورٹ میں حج انتظامات میں کروڑوں روپے کی ’بدعنوانی‘ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت میں کہا ہے کہ اس بدعنوانی میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ملوث ہیں اور وہ اس ضمن میں عدالت میں آئندہ سماعت پر ثبوت بھی پیش کریں گے۔

تاہم مذہبی امور کے وفاقی وزیر کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ جج انتظامات کے حوالے سے ان کے مؤکل کے خلاف لگائے جانے والے الزامات مکلمل طور پر بے بنیاد ہیں۔

جمعرات کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کی۔

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے عدالت میں کہا کہ اُنہوں نے یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اُٹھایا تھا اور وزیر اعظم کو بھی اس سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اُنہوں نے وزیر اعظم سے کہا تھا کہ اگر اُنہوں نے وفاقی وزیر برائے مذہبی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو خدا ایسا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حُجاج کرام کو دورانِ حج جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اُن کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل نے عدالت میں ایک بیان جمع کروایا جس میں اُنہوں نے کہا کہ اس سال اپریل سے جون تک جو عمارتیں حاجیوں کے لیے کرائے پر حاصل کی گئیں تھیں وہ حرم سے دو کلومیٹر دور تھیں اور یہ عمارتیں میرٹ پر حاصل کی گئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اُنہوں نے کوئی عمارت کرائے پر نہیں لی۔

سابق ڈائریکٹر جنرل حج نے کہا کہ وہ بدعنوانی میں ملوث نہیں ہیں۔

راؤ شکیل ان دنوں حج انتظامات میں بدعنوانی کے مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں۔

چیف جسٹس نے سابق ڈائریکٹر جنرل حج سے استفسار کیا کہ اُن کی تعیناتی کے پیچھے کون ہیں جس پر اُنہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم کے حکم پر اُنہیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب اُن کے خلاف نیب کی عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت ہیں تو پھر اُنہیں یہ عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منی میں حاجیوں سے رہائش گاہوں کی مد میں ایک ایک ہزار سعودی ریال لیے گئے جبکہ وہاں پر بیت الخلاء بھی نہیں تھے اور نہ ہی پانی کا انتظام تھا جس کی وجہ سے حاجی احرام پھاڑ کر صفائی کرتے رہے۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے وسیم احمد نے عدالت کو بتایا کہ ایک انسپکٹر رینک کا افسر اس مقدمے کی تفتیش کر رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے اُن کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اتنے اہم مقدمے کی تفتیش کے لیے اُنہیں صرف انسپکٹر رینک کا افسر ہی ملا ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا انٹرویو بھی کیا ہے جس پر بینچ میں شامل خلیل الرحمن رمدے کا کہنا تھا کہ وہ ایک وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ ہیں یا کسی ٹی وی کے اینکرپرسن۔ انہوں نے کہا کہ اُنہیں وفاقی وزیر کا بیان قلمبند کرنا چاہیے تھا۔

وسیم احمد نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران راؤ شکیل سے 23 کروڑ روپے بازیاب کیے گئے ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں جو تحقیقات ہو رہی ہیں اُس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ راو شکیل کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اُس میں اُن کی بڑی آسانی سے ضمانت ہو جائے گی۔ عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت تیرہ دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران کمرہ عدالت حاجیوں سے بھرا ہوا تھا۔

اسی بارے میں