معاشی بحران: فوج متاثر ہوئی ہے

  • ہارون رشید
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

پاکستان فوج کو آج بھی ملک کا سب سے مضبوط اور طاقتور ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن تیزی سے بدلتے اندرونی و بیرونی سیاسی و اقتصادی حالات کی وجہ سے اس ادارے کو اپنی اہمیت و افادیت برقرار رکھنے کے لیے کئی چیلنج کا سامنا ہے۔

امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد اگر ایک جانب پاکستان فوج کی اہمیت بڑھی تو دوسری جانب اس پر ملک کی مشرقی کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد پر بھی ذمہ داری بڑھ گئی۔ اس جنگ میں مخلص ہونے یا نہ ہونے جیسے شکوک و شبہات بعض لوگوں کے ذہنوں میں اپنی جگہ برقرار ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف اس جنگ نے اس کے انسانی و اقتصادی وسائل پر شدید دباؤ ڈالے ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ تواتر کے ساتھ فوجی کارروائیوں سے اس کے سٹاکس میں کمی آئی۔ اس کی بڑی وجہ بقول ان کے ساٹھ کی دہائی سے ان کے بجٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وسائل کی مسلسل کمی اس کی جنگی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔

فوجی حکام نے وزارت خزانہ کے اعدادوشمار بتاتے ہوئے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے سال دوہزار ایک میں دفاعی بجٹ تین اعشاریہ نو فیصد تھا جو اب کم ہوکر دو اعشاریہ سات فیصد رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کو معیشت کا سفید ہاتھی کہنا غلط ہے۔ ان کے مطابق قومی بجٹ کا ساٹھ فیصد قرضوں کی ادائیگیوں اور پی ایس ڈی پی پر مشتمل ہے جبکہ بجٹ میں دفاعی کا حصہ محض سولہ فیصد ہے۔ اس دفاعی بجٹ کا آج کل باسٹھ فیصد محض اسٹیبلشمنٹ یعنی تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے۔

فوجی حکام اس تاثر کو بھی رد کرتے ہیں کہ فوج قومی معیشت میں کوئی حصہ نہیں ڈالتی ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق فوج سالانہ ایک سو چھیالیس ارب روپے مختلف ٹیکسوں اور زرمبادلہ کی مد میں ادا کرتی ہے۔ اس میں فوجی فاونڈیشن کا حصہ قابل ذکر بتایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ سے فوج کی بین الاقوامی امن فوج کے طور پر تعیناتی کی مد میں آٹھ اعشاریہ سات ارب روپے دیتی ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرچہ پاکستان فوج کے بجٹ میں قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن اس ادارے کے نجی تجارتی اثاثے ایک اندازے کے مطابق دس ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق فوجیوں کے پاس صرف ایک کروڑ ایکٹر اراضی کی ملکیت ہے۔ اعلیٰ فوجی حکام نے تاہم کئی دہائیوں کے دوران حاصل کیے جانے والے ان اثاثوں یا ان سے ملنے والی آمدن کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

پاکستانی فوج کے پاس جو گاڑیوں موجود ہیں ان میں پچاس سال سے پرانی گاڑیوں کی تعداد دو فیصد، بیس سال پرانی چونتیس فیصد اور پانچ سال پرانی بیس فیصد ہے۔ اس چھپن فیصد کے علاوہ غالباً چوالیس فیصد پانچ سال سال سے پرانی نہیں ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ ان پرانی گاڑیوں کو قابل استعمال رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر ایک اندازے کے مطابق ایک ٹرک کی سالانہ مرمت کا خرچہ چوالیس ہزار روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ ایسے میں ایک ٹینک کی مرمت پر اٹھنے والے خرچے کا اندازہ لگانا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔

دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر آنے والا خرچ امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں واپس ملنے ہیں۔ عام تاثر ہے کہ امریکہ اس مد میں دس یا بارہ ارب ڈالر پاکستان کو ادا کرچکا ہے۔ لیکن فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے صرف آٹھ ارب ڈالر اب تک ادا کیے ہیں جس میں سے فوج کو محض ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر مل پائے ہیں۔ باقی چھ ارب ڈالر حکومت پاکستان کے پاس ہی ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ وہ اب تک اپنے سٹاکس میں سے گیارہ ارب ڈالر اس جنگ پر خرچ کر چکا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی حکام کے اعدادوشمار کے مطابق ایک طرف تو امریکہ اپنے ایک فوجی پر سینتالیس ہزار روپے ہر سال خرچ کر رہا اور بھارت میں یہ تناسب ستائیس ہزار روپے ہے۔ لیکن پاکستان میں فوجی اعداد و شمار کے مطابق محض تقریبا آٹھ ہزار روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس میں دہشت گردی میں ہلاک یا زخمی ہونے والے فوجیوں کی طویل عرصہ تک امداد بھی ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے نبھانا فوج کے لیے بحثیت ایک ادارہ بہت ضروری ہے۔

ایک طرف اگر فوجی حکام کی بات تسلیم کریں تو بجٹ کی کمی کا مسئلہ ہے تو دوسری جانب فوجی اہلکاروں پر کاروبار سے منسلک بدعنوانی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے گزشتہ دنوں این ایل سی میں کرپشن کی تحقیقات کا حکم اسی جانب اشارہ کرتی ہے۔

مالی بدحالی کے اس زمانے میں کوئی بھی ملک اپنے دفاع کو نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن کسی ملک کے لیے کتنی دفاعی صلاحیت ضروری ہے اس کا تعین فوجی حکام کے ساتھ ساتھ اگر سیاسی قیادت بھی کرسکے تو بہتر ہوگا۔ سیاسی حکومت کی مالی مشکلات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔